ڈاکٹر نورالصباح
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب عورتیں ڈری سہمی گھروں کی چہاردیواری کے اندر قید تھیں ، زباں بندی ان کا مقدر تھی اور غلامی ان کی زندگی کا حصہ۔ وہ اتنی دبی کچلی تھیں کہ انھیں اپنی قسمت پر رونے کا حق بھی نہیں تھا اور نہ کسی محرومی کے شکوہ کی اجازت۔شادی بیاہ کے معاملے میں بھیڑ بکریوں جیسا برتاؤ رکھا جاتا تھا تعلیم سے انھیں دور رکھا جاتا تھا ۔ رفتہ رفتہ زمانے نے کروٹ بدلی ۔ رائٹروں نے ان کے حق میں آواز اٹھائی۔ ان آوازوں کے ساتھ عورتوں کی آوازیں بھی شامل ہونی شروع ہوگئیں۔ ان عورتوں میں ایک مضبوط آواز مسز عبدالقادر کی تھی۔
سیاحت سے دلچسپی اور
