وسائل کی فراہمی اورغیر سرکاری تنظیمیں

ڈاکٹر صغیر احمد

“آگے کی منصوبہ بندی کریں۔ نوح نے جب کشتی بنایا تھا اس وقت بارش نہیں ہو رہی تھی”۔ جنرل فیچرس کارپوریشن۔ (1)

پلاننگ فیصلہ سازی کا عمل ہے جس میں مقاصد کی تعیین اور ان  کو حاصل کرنے والی سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی میں، منیجر مستقبل کا اندازہ لگاتے ہیں، تنظیم کے اہداف کا تعین کرتے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے مجموعی طور پر حکمت عملی تیار کرتے ہیں ۔ (2)

مندرجہ بالا تعریف سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہر تنظیم کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے۔ کیا غیر سرکاری تنظیموں خاص طور پر مقامی غیر سرکاری تنظیموں کے پاس بہترین [...]

خودنوشت ’’آشفتہ بیانی میری‘‘: ایک مطالعہ

محمد معروف سلیمانی*

                ’’آشفتہ بیانی میری ‘‘ رشید احمد صدیقی کی مشہور خودنوشت ہے۔ جس میں رشید احمد صدیقی نے اپنی زندگی کے مختلف شعبوں بالخصوص علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (ایم ۔اے۔او۔کالج) کی ترجمانی کی ہے ۔ ۱۹۵۸ء میں پہلی بار یہ کتاب علی گڑھ مسلم ایجوکیشنل پریس سے شائع ہوئی ۔ اس کی دوسری اشاعت لکھنؤ، سرفراز قومی پریس ۱۹۵۸ء، تیسری اشاعت دہلی، مکتبہ ادب نو ۱۹۶۰، چوتھی اشاعت مکتبہ جامعہ نئی دہلی سے ۱۹۶۲ء میں ہوئی ۔پیش نظر یہ مطبوعہ اگست ۲۰۰۲ء میں مکتبہ جامع لمیٹڈ نئی دہلی سے شائع ہوا جو ۱۵۱ صفحات پر مشتمل ہے ۔

                اردو ادب میں [...]

رضیہ سجاد ظہیرکے افسانوں میں مسائل نسواں کی عکاسی

نور الصباح*

رضیہ سجاد ظہیر 15؍فروری 1917ء کو اجمیر، راجستھان میں خان بہادر سید رضا حسین کے گھرانے میں پیدا ہوئیں،جو اجمیر اسلامیہ ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کے دادا سید امام حسین آثم صاحب دیوان شاعر تھے۔ وہ لوگ تعلیم و تعلم اور درس و تدریس سے منسلک ایک روشن خیال ماحول کے پروردہ تھے، لہذا رضیہ سجاد ظہیر کو بھی تعلیم کے لیے کسی جدوجہد کا سامنا نہیں کرنا پڑا، انہوں نے میٹرک ، ایف اے اور بی اے تک کی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی،پھر شادی کے بعد الہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری فرسٹ ڈویژن سے حاصل کی۔ ان کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ ان [...]

Humanism in the Poems of Kabir

By Dr. Sagheer Ahmad

Kabir is one of the most eminent personalities of Indian History. Although he lived in medieval age but his teachings are relevant even today. Shakeelur Rahman rightly says “Har Daur Kabir ka Daur Hai, Har Sadi Kabir ki Sadi hai”(every age is Kabir’s age and every century is Kabir’s century). (1)

Kabir was brought up by Neeru and Nayeema and he spent his most of his life in Kashi (Varansi). It is irony of the history that information about life of one of the most prominent personalities is full of contradictions. The birth of Kabir is a matter of dispute among historians. People are still not sure about his parents and at the same time there are different opinions about his wife and children.

It is believed that Kabir was child of a Brahman widow and the widow gave birth to Kabir as Ramanand has blessed her by saying that she will give birth to a boy, when father of the widow reminded him that she is widow, Ramanand did not take his words back and eventually [...]