گل شبو*

ہر انسان اپنی زندگی میں رنج و خوشی اور کرب و طرب سے گزرتا ہے۔ کسی فرد بشر کو اس سے مفر نہیں۔ ہاں کچھ لوگ اسے ’خود نوشت‘ کے طور پر قلم بند کرکے بعد میں آنے والوں کے لیے محفوظ کردیتے ہیں اور کچھ لوگ موقع بہ موقع زبانی طور پر اپنے واقعات و حالات بیان کرکے تسلی حاصل کرلیتے ہیں اور یوں ہی اپنے دل میں لیے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

خود نوشت کا تعلق غیر افسانوی نثر سے ہے۔ یہ مصنف کی اپنی سوانح عمری ہوتی ہے۔ سوانح / سوانح عمری اور سوانح حیات کو انگریزی میں Biography کہا جاتا ہے۔ بایو گرافی کسی شخص کے حالاتِ زندگی کسی دوسرے شخص کے قلم سے وجود میں آتی ہے۔ جب کہ ذاتی حالات و کوائف بیان کرنا ’خود نوشت سوانح‘ کہلاتا ہے۔ اسے انگریزی میں Autobiography کہتے ہیں۔ اردو کی نثری اصناف پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر نامے کا بیانیہ انداز بہت حد تک خود نوشت کے طرز بیان سے مماثل ہے۔ لیکن یہ صنف ایک الگ ہے جس میں مصنف صرف اپنے سفری وقائع و حالات کو ہی قلم بند کرتا ہے۔ اس لیے ’سفرنامے‘ خود نوشت کا ایک جز ضرور ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ’خود نوشت‘ سفرنامے سے مماثل ہوتے ہوئے بھی اس سے علاحدہ صنف ٹھہرتی ہے۔

انیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو میں خودنوشت اور سوانح نگاری کا آغاز ہوا۔ کسی بھی صنف اور اسلوب کو پھلنے پھولنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا خود نوشت اپنی شناخت قائم کرنے میں بیسویں صدی کے اوائل میں داخل ہوگئی۔ اردو میں سب سے پہلی خود نوشت جعفر تھانیسری کی ’تواریخ عجیب عرف کالا پانی‘ ہے۔خود نوشت کا ہیرو خود مصنف ہی ہوتا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے سے ہمیں ہیرو کے کردار اور اس کی زندگی کے واقعات و حالات کا پتہ لگتا ہے۔

اخترالایمان بنیادی طور پر نظم نگار تھے۔ ان کا شمار ایسے شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے وقت کے مروجہ شعری روایات سے ہٹ کر اپنا الگ راستہ بنایا۔ ان کی شاعری میں دانشورانہ فکر اور عام زندگی کے بھولے بسرے لمحوں کی بازیابی ملتی ہے۔ رشتوں کی حرارت اور جذبوں کی رفاقت سے ان کی شاعری کا خمیر اٹھا ہے۔ غرضے کہ ان کی شاعری میں خود ان کی ذاتی زندگی شامل ہے۔

’اِس آباد خرابے میں‘ اخترالایمان کی خودنوشت ہے۔ اس کی اشاعت کا سلسلہ پہلے محمود ایاز کے رسالے ’سوغات‘ میں شروع ہوا۔ اس کی پہلی قسط ستمبر ۱۹۹۱ء میں اور آخری قسط مارچ ۱۹۹۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ کتابی شکل میں اس کی اشاعت کا ذمہ پہلے ہی ’دہلی اردو اکادمی‘ نے لے لیا تھا۔ اس لیے ان کی وفات [ ۹/ مارچ ۱۹۹۶ء] کے بعد ۱۹۹۶ء میں ہی اردو اکادمی ،دہلی نے اسے شائع کیا۔

اخترالایمان کی زندگی عسرت و تنگ دستی اور خانہ بدوشی میں گزری تھی۔ کھیت میں مزدوری کرنے والے اخترالایمان نے آگے چل کر قلم کو ہتھیار بنایا اور ادب میں اپنا نام سنہرے حرفوں میں رقم کردیا۔ ذاکر حسین کالج سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پھر بمبئی کی زندگی میں بہت سارے مقامات آئے جو ان کی زندگی کی یادگار ہیں۔ انھوں نے ان سارے لمحات کو اس خود نوشت میں رقم کردیا ہے۔ نیز اس میں مصنف کے کردار کے ساتھ دوسروں کا کردار بھی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کی شہرت و مقبولیت کی خاص وجہ یہ ہے کہ خود نوشت نگار نے اپنی زندگی کے سچ کو چھپانے کے بجاے اس کے سفید و سیاہ پہلوؤں کو بڑی سچائی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ یہ خود نوشت پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ درد و کرب کے کتنے پڑاؤ، مصائب کے کتنے مراحل اور آہ و فغاں کے مختلف مراحل سے گزرے تھے۔ جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں:

میں نے اس خود نوشت میں جیسی مجھ پر گذری ہے سب لکھ دیا۔ روکھے پھیکے واقعات ہیں۔ ان میں کوئی جی کو لبھانے والی بات نہیں۔(1)

کلچر اور ثقافت کی شکست و ریخت ان کی شاعری کا اہم موضوع ہے۔ خودنوشت میں بھی اس کے مسمار ہونے پر افسوس ظاہر کیا گیا ہے۔ دلّی کی مرتی ہوئی تہذیب کو کئی مقامات پر اجاگر کیا گیا ہے۔ ’موت اور وقت‘ اختر الایمان کے اہم موضوعات ہیں۔ ’اس آباد خرابے میں‘ وقت کی ناگزیری کے ساتھ سو سے زیادہ متعلق اور غیر متعلق لوگوں کی موت کی اطلاع ملتی ہے۔

غریبی بہت بری بلا ہے۔ انسان اس کے سبب مجبور اور بے بس ہوجاتا ہے۔ غربت کب کس کو کہاں لا کھڑا کردے یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ اخترالایمان کو بھی غربت اور ناداری کے باعث یتیمی کے دور سے بھی گذرنا پڑا۔اس وقت ان کی عمر دس گیارہ سال تھی اور وہ سگھ مدرسہ میں زیر تعلیم تھے:

سگھ مدرسہ در اصل ایک یتیم خانہ تھا جو ایک بغیر چھت کی مسجد اور چند پھونس کے چھپروں پر مشتمل تھا۔ اس سگھ مدرسہ کے مہتمم اور روح رواں ’حافظ اللہ دیا‘ نام کے ایک صاحب تھے۔(2)

اختر الایمان طالب علمی کے زمانہ میں مالی پریشانیوں کے سبب ذہنی طور پر پریشان رہے۔ تعلیم کے اخراجات کی تکمیل کے لیے انھوں نے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھوم کر ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا۔ اس سے انھیں راحت ملی۔ پھر انھوں نے اپنے گھر کے بغل میں ایک روم کرایہ پر لے لیا اور اسی میں انھوں نے اپنے ٹیوشن کا انتظام کرلیا۔ اختر الایمان اس کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

فتح پوری اسکول کی زندگی میرے لیے بہت مصروف اور مشکل بھری زندگی تھی۔ میرے پاس کئی ٹیوشن تھیں۔ ایک ’کشن گنج‘ میں تو دوسری ’پھاٹک حبش خاں‘ میں تو تیسری ’نیاریوں‘ کے محلے میں تو چوتھی کہیں اور۔ دن بھر شہر کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک دوڑتا رہتا تھا۔ سردیاں تو ٹھیک تھیں مگر گرمیوں میں چوٹی سے ایڑی تک پسینے میں شرابور رہتا تھا۔ اس کے علاوہ والی بال کی ٹیم کا کپتان تھا۔ فٹ بال ٹیم کے پہلے گیارہ لڑکوں میں تھا اور ان کے علاوہ اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے لیے کام کرتا تھا۔ اگر وقت مل جاتا تو کمپنی باغ میں جا کر ورزش کرتا تھا۔(3)

اخترالایمان تنہائی پسندہونے کے ساتھ جمالیات شناس واقع ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے ذاتی درد کی نمائش تو نہیں کی لیکن اس کا اظہار مختلف مقامات پر ضرور کیا ہے۔ ان کے زندگی نامے میں کچھ ایسی پری زادیوں سے قاری کا سابقہ پڑتا ہے جن کی یادوں میں وہ ہمیشہ محو نظر آتے ہیں۔ ان لمحوں کو یادکرکے کسک کا احساس کرتے تھے۔ اس حصار سے وہ پوری زندگی باہر نہ آسکے۔ ان کی خودنوشت میں جو کردار اور واقعات نظر آتے ہیں۔ ان میں اکثر سے ہمارا سامنا ان کی شاعری میں پہلے ہی ہوچکا ہے۔ مسجدیں،مدرسے، معاشقے، مشاعرے، دوست، دشمن، گاؤں اور شہر ہوبہو ان کی شاعری میں موجود ہیں۔ انھوں نے جن حسیناؤں کا ذکر کیا ہے ان میں قیصر، سیتا، شکورن، مس عارف، لچھمی، زیبا، ثریا، انیتا، شلندر وغیرہ ہیں۔ اخترالایمان کے یہاں بڑی عمرکی محبوبہ کا دست شفقت نظر آتا ہے۔ خود نوشت سے پتہ چلتا ہے کہ قیصر اور حبیبہ ان سے عمر میں بڑی تھیں۔ ’ڈاسنہ اسٹیشن کے مسافر‘ میں قیصر نظر آتی ہے۔ خود نوشت میں اس کا ذکراور ٹرین کا سفر دونوں موجود ہے:

مگر قیصر آتی رہی۔ اور یہ پسندیدگی آہستہ آہستہ قربت میں بدل گئی۔۔۔۔۔ اگلے روز قیصر کے ساتھ میں شام کی گاڑی سے روانہ ہوگیا۔ ایک رات کا سفر تھا ۔۔۔۔۔  قیصر کا مکان کوٹھی نما تھا۔ سسرال کے لوگ متمول معلوم ہوتے تھے۔(4)

اختر الایمان نے اپنی دوستی کا ذکر بھی خوب کیا ہے۔یہ اتنے خوش مزاج انسان تھے کہ لوگوں کا ان سے باتیں کرنا خوب بھاتا تھا۔ ویسے تو لوگ ان کے مزاج سے واقف تو ہوگئے تھے کہ یہ زیادہ تر باتوں کا برا نہیں مانتے تھے یہ بہت ہنس مکھ انسان تھے۔ اختر الایمان کے اندر ہمدردی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ہر شخص سے اچھے انداز سے ملتے اور باتیں کرتے تھے۔ جنھیں وہ جانتے بھی نہ ہوں، ان سے بھی ایسے ملتے کہ وہ برسوں کا شناسائی معلوم ہوتا:

اسی زمانے میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جن کا نام یوسف پیر بھائی تھا۔ اچھے دوست نواز اور ہمدرد قسم کے آدمی تھے۔ کسٹوڈین کی دی ہوئی مدت بھی ختم ہو رہی۔ میں نے پیر بھائی سے رجوع کیا۔ انھوں نے مجھے ایک پارسی خاتون سے ملوایا جن کا نام ’مس پاؤری‘ تھا۔  ’مس پاؤری‘  کے مکان میں ایک کمرہ خالی تھا جس کا انھوں نے چھپن روپیہ بھی مانگا تھا۔ میرے پاس وہ چھپن روپیہ بھی نہیں تھے۔ مگر تھوڑا بہت بھروسہ تو مستقبل پر رکھنا ہی پڑتا ہے۔ میں نے وہ کمرہ لے لیا اور میراجی کے ساتھ ماضی کی ساری پریشانیاں اور اندیشے بھی وہیں دفن کردیے اور میں اس کمرے میں منتقل ہوگیا۔(5)

اختر الایمان نے اپنی خود نوشت میں ماریشس کا بھی ذکر کیا ہے۔ گرچہ انھوں نے سفر کی تفصیلات سے احتراز کیا ہے۔یہ تفصیلات زیادہ معنی نہیں رکھتیں۔ اس لیے کہ انھوں نے اتنے اچھے انداز میں اس کا تعارف کرایا ہے کہ تفصیل کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی ہے۔ انھوں نے یہاں سکونت اختیار کرنے والے بہار کے باشندوں کا ذکر کیا ہے۔ اس سے بہار کی قدیم تہذیب اور وہاں کا ماحول ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے:

ماریشس اچھی خوبصورت جگہ ہے۔ مگر اس کی کوئی تفصیل میرے ذہن میں نہیں رہی، سوا اس کے کہ ماریشس کے ساحل بہت خوبصورت ہیں اور وہ لوگ جو بہار سے لے جاکر وہاں بسائے گئے تھے۔ بہاری، بھوجپوری زبان کے ساتھ ساتھ فرانسیسی بھی بولتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ جزیرہ فرانسیسیوں کے قبضہ میں ہے یا تھا جب فرانسیسیوں نے ماریشس پر قبضہ کیا۔ اس وقت اس جزیرہ میں ایک پرندہ بڑی کثرت سے پایا جاتا تھا جس کا نام ’ڈوڈو‘ تھا۔ وہ بہت اڑ نہیں پاتا تھا۔ کچھ ہی مدت بعد وہ پرندہ دنیا سے ناپید ہوگیا۔ جزیرے کے باشندے پکڑ پکڑ کر کھا گئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔(6)

اخترالایمان کی اس خودنوشت سے شاعروں کی طوائف پرستی کا بھی حال معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانے کے جی۔ بی۔ (گرسٹن بسٹن ) روڈکا ذکر بھی کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اخترالایمان نے اپنی زندگی میں پیش آمدہ واقعات کو چھپانے اور اپنی شخصیت کو مجروح ہونے سے بچانے کی کوشش نہیں کی ہے:

براؤن نے میرا تعارف جن دو خواتین سے کرایا، ان میں ایک ماں تھی۔ ایک بیٹی۔ ماں اچھی اترتی عمر کی خاتون تھیں اور بیٹی شباب کی آخری منزلوں میں تھیں۔ براؤن اور جان تو اپنی اپنی لڑکیوں کو لے کر کمرے میں چلے گئے۔

براؤن نے جاتے جاتے مجھ سے کہا: ”Help yourself”

اس کے جانے کے بعد میں نے ان دونوں خواتین کو اپنی میزبانی کا ثبوت بھی دینا چاہا اور ان کے لیے بیئر منگائی۔ کچھ کھانے کو بھی منگایا۔ لڑکی مجھے اچھی بھی لگی تھی۔ اس سے بہت دیر تک ہندوستان کی تعریف کرتا رہا۔ اسے اپنا پتہ دیا اور اصرار کیا کہ تمہارا کبھی بمبئی جانا ہو تو آنا، بمبئی بھی بہت اچھا شہر ہے، بالکل انگلینڈ اور امریکہ کا مد مقابل۔ سرور کم آئے یا زیادہ، آتا تو بیئر سے بھی ہے۔ ہم تھوڑے بے تکلف ہوگئے۔ اسے یہ بھی بتایا، میں بہت مشہور فلم اسکرپٹ رائٹر اور شاعر بھی ہوں۔ یہ جاننے کے بعد وہ میرے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔ لڑکی کا نام ’لزلی‘ تھا۔

میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: ’’لزلی تم بہت پیاری لگ رہی ہو‘‘

وہ مسکرائی پھر کھڑی ہوگئی اور اپنے کمرے میں جاتے جاتے کہا: ”you go with mama”

مجھے بڑے زور کی ہنسی آگئی مگر میں نے دبا لی اور والدہ محترمہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ان کے کمرے کے دروازے پر لے جاکر یہ کہہ کر چھوڑ دیا: ’’آپ بھی آرام کیجئے، رات بہت ہوگئی۔(7)

پٹ وردھن سے میرے بہت اچھے مراسم تھے۔ مسز پٹ وردھن اکثر میرے پاس آبیٹھتی تھیں۔ ان کے یہاں ابھی تک کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ مراٹھی کے سوا کوئی دوسری زبان بھی نہیں جانتی تھیں۔ مگر ہم ’یس‘ اور ’نو‘ سے کام چلا لیتے تھے۔ ایک روز میں کسی کام سے اوپر پٹ وردھن کے یہاں گیا۔ کمرہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔ میں ذرا سا دھکا دیا تو کھل گیا۔ مسز پٹ وردھن کسی کے ساتھ بستر میں تھیں۔ میں واپس آگیا۔ اسٹوڈیو میں کچھ پڑھے لکھے مراٹھیوں سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ مہاراشٹر میں ’نیوگ‘ آج بھی رائج ہے۔ بچہ نہ ہوا ہو یا نہ ہوتا ہو تو شوہر کے سوا اور کسی سے بھی لے سکتے ہیں۔ میں نے کبھی اس بات کی تحقیق نہیں کی، ضرورت بھی نہیں تھی۔(8)

اخترالایمان نے جس ’نیوگ‘ کا ذکر کیا ہے۔ دسویں کال کھنڈ میں یہ شاہی رواج رہا ہے۔ اس زمانے میں یہ دستور عام تھا۔ روایت کے مطابق ملیہ راجیہ کا راجہ ’نامرد‘ تھا جس کی وجہ سے ان کے ہاں کوئی نر اولاد نہیں تھی۔ تبھی راج پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ رانی صاحبہ نیوگ کریں تاکہ بادشاہ کا جانشین میسر آئے۔ رانی ہر ممکن منطق سے انکار کرتی رہی مگر رانی صاحبہ کو مجبوراً اس کے لیے تیار ہونا پڑا۔ رانی جب صبح کی پہلی کرن کے ساتھ نیوگ سے واپس لوٹی تو اس کے پورے وجود پر حجاب آمیز مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ دوبارہ ’نیوگ‘ کا آنند اٹھانے کی خواہش میں مچلنے لگی، مگر راجہ صرف سلطنت کی خاطر اس کی اجازت دیتے تھے۔ عورت کو اپنے ادھورے پن کی تکمیل کے لیے اِس کی اجازت نہیں تھی۔

 اس خودنوشت میں بہت سارے ادیبوں اور شاعروں کا کچا چٹھا بھی پیش کیا گیا ہے اور ان کی شخصی خامیاں اور کمزوریاں پیش کی گئی ہیں۔ اِس میں ایک ایسا واقعہ بھی درج ہے جس سے معاصر شاعری کے بارے میں بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بات تو ایک محفل کی ہے۔ مگر اپنے اندر بہت ساری سنجیدگی اور رمز سمیٹے ہوئے ہے اور اِس سے اس دور کی شاعری کا اندازہ ہوتا ہے۔ جس دور سے اخترالایمان اور ان کی قبیل کے شاعروں کا تعلق تھا اور جس دور کی تخلیقی زرخیزی سے ہم آج تک محظوظ ہورہے ہیں۔ اِس میں ایک طرح سے سبق بھی ہے اور عبرت بھی۔ اخترالایمان لکھتے ہیں:

ایک بار سنسکرت ہائی اسکول میں ایک ادبی نشست ہوئی۔ میں بھی اس میں شامل ہوا۔ کچھ بزرگ لکھنے والے بھی تھے۔پنڈت امیر چند ساحر ، خواجہ حسن نظامی اور امن صاحب اور بھی شاعر تھے جن کے نام اس وقت ذہن میں نہیں۔ میں نے ایک نظم پڑھی۔ عنوان اِس وقت ٹھیک سے یاد نہیں۔ شاید ’موت‘ تھی۔ نظم سن کر امر چند ساحر بگڑ گئے۔ یہ لونڈے معلوم نہیں کیا شاعری کرتے ہیں۔ ورڈسورتھ اور ٹینی سن پڑھ پڑھ کے شاعری کرنے لگتے ہیں۔ (9)

اخترالایمان کی نظم سن کر امر چند ساحر نے جس ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ سنجیدگی سے سوچا جائے تو آج کی بیش تر شاعری پڑھ کر سچے قاری کا یہی رد عمل ہوگا۔ ایک فہرست بنائی جائے اور دیانت داری سے مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ شاعری میں بھی ترجمہ نگاری کی روایت چل پڑی ہے۔ مغرب اور مشرق کے شعرا کو ہی دہرایا جارہا ہے۔ اِن شاعروں کے پاس نہ اپنی سوچ ہے نہ اپنی فکر۔ اِس کتاب میں ہمارے سارے ادیب و شاعر اپنے حقیقی حلیے اور تخلیقی اعمال نامے کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ اخترالایمان نے جن تخلیق کاروں کو قریب سے دیکھا، پرکھا اور بھگتا ہے، ان میں سے کسی کے بائیں ہاتھ میں تو کسی کے دائیں ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ بھی تھما دیا ہے۔ اِس اعمال نامے میں ہماری نسل کے لیے بہت کچھ ہے۔ وہ کچھ جس سے وہ اپنے نظریات پر ازسر نو غور و فکر بھی کرسکتے ہیں اور اپنی تنقیدات اور تفکرات کی تشکیل بھی۔

اخترالایمان نے اپنی خود نوشت میں جہاں سماجی، معاشرتی اشارے کیے ہیں وہیں اس وقت کی ادبی تحریکات، رویے اور رجحانات کا ذکرکرتے ہوئے ترقی پسند تحریک اور حلقہ ارباب ذوق کے تعلق سے جو کچھ تحریر کیا ہے:

اس وقت کے لکھنے والوں کے دو بڑے گروہ بن گئے تھے یا بنا دیے گئے تھے۔ ایک حلقۂ ارباب ذوق سے متعلق تھا اور دوسرا ترقی پسند کہلاتا تھا۔ ترقی پسند لکھنے والے اشتراکی تحریک سے جڑے ہوئے تھے۔ ان میں کتنے واقعی اشتراکی تصور حیات کے قائل تھے اور کتنوں نے محض وہ لبادہ اوڑھ لیا تھا۔ میں اس بحث میں بھی نہیں پڑنا چاہتا۔ صرف ان کے بنیادی فرق کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ ترقی پسندی کے ذیل میں وہ تحریریں آتی تھیں جو اشتراکی زاویہ سے لکھی گئی ہوں یا کم سے کم اشتراکی نعرہ ضرور ہو۔ اس گروہ کے لوگ یا لکھنے والے عوام کی واقعی کتنے فلاح چاہنے والے تھے۔ اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہوں گا۔ حلقۂ ارباب ذوق کے پاس ایسا کوئی نعرہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا صرف اتنا تھا کہ ہر ادبی تخلیق کو پہلے ادبی ہونا چاہیے۔ یا اچھے ادب کے ذیل میں آتی ہو۔ اس میں کوئی نعرہ ہے یا نہیں۔ وہ ثانوی بات ہے۔ اپنے اسی رویہ کے تحت ترقی پسندوں نے حلقہ سے متعلق لکھنے والوں کو کبھی قابلِ اعتنا نہیں سمجھا بلکہ اس ۴۴ء کی کانفرنس کو بھی رجعت پسند اور زوال پرست کہا۔ اس کے برعکس حلقۂ ارباب ذوق نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ اردو شاعری کے انتخاب کا وہ ہر سال ایک مجموعہ شائع کرتے تھے۔ اس میں جوش کی نظمیں بھی انتخاب ہوتی تھیں اور شاد عارفی کی بھی۔ اس میں کبھی غلطی سے بھی ترقی پسند اور غیرترقی پسند کی تخصیص نہیں برتی گئی۔(10)

انھوں نے اپنے عہد کے ادبی منظر نامے کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں تعصبات کی آمیزش ممکن ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ان احساسات و تبصرات میں صاف گوئی سے ہی کام لیا گیا ہے۔ ان کی کہانی میں بہت سے عزت مآب اور عالی مقام افراد پستہ قد نظر آتے ہیں۔ ن۔م۔ راشد کے بارے میں ان کے تاثرات پڑھ لینے کے بعد راشد کی عظمت زمیں بوس ہوتی نظر آتی ہے۔ اس کی روشنی میں کمزور، خوف زدہ اور عدم تحفظ کے شکار تخلیق کار کی شبیہ سامنے آتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے فن پارے میں متناسب نظر آنے والے حضرات اپنی ذات میں کس قدر کمتر ثابت ہوتے ہیں۔

اختر الایمان نے کچھ مواقع پر اپنی تخلیقات کے تعلق سے بھی اظہار خیال کیا ہے۔ نظم ’مجرم‘ کے تعلق سے لکھتے ہیں:

دلی سے ’ساقی‘ میں تو میری نظمیں چھپتی رہتی تھیں، لاہور سے ’ادبی دنیا‘ نکلتا تھا۔ مولانا صلاح الدین نثر کا حصہ ترتیب دیتے تھے اور میراجی نظم کا حصہ۔ میں نے وہ نظم ’ادبی دنیا‘ کو بھیج دی۔ میرا جی کو ایک نظم میں پہلے بھی بھیج چکا تھا جو انھوں نے یہ لکھ کر واپس کردی تھی: ’’اس نظم پر نظرِ ثانی کیجیے۔‘‘ بلند بانگ سی نظم تھی ’فرار‘ عنوان تھا۔ نظم میں ایک مصرعہ باربار دُہرایا جاتا تھا جو یوں تھا:

سچ بتا کیا زندگی سے بھاگ کر آیا ہے تو(11)

اس نظم نے کالج کی زندگی میں بھی ہنگامہ پیدا کیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

یونین کے سالانہ جلسے میں تقریری مقابلے ہوتے تھے۔ ہندوستان کے ہر کالج سے لڑکے آتے تھے۔ انہی دنوں یونین کا سالانہ جلسہ ہوا۔ پروفیسر قریشی (کیمسٹری کے استاد اشتیاق قریشی) جلسہ کے صدر تھے۔ حسبِ دستور تقسیمِ انعامات کے بعد مجھ سے نظم کی فرمائش کی گئی اور میں نے ’فرار‘ پڑھی جس کا ایک مصرعہ ٹیپ کے طور پر دُہرایا جاتا ہے:

سچ بتا کیا زندگی سے بھاگ کر آیا ہے تو

اسی نظم کا ایک مصرع یہ تھا:

جس طرح اک فاحشہ عورت کو شوہر کا خیال

قریشی صاحب نے مجھے روک دیا: ’’یہ نظم فحش ہے، بند کرو۔‘‘

میں نے وضاحت کرنا چاہی مگر وہ نہ مانے، میں ہال سے باہر چلا گیا۔ ہال میں بہت کالج کے لڑکے لڑکیاں تھیں۔ سب نے کہا نظم فحش نہیں، وہ سننا چاہتے ہیں۔ مگر قریشی صاحب اڑ گئے اور جلسہ میں بہت بدمزگی ہوئی۔(12)

اس بیان سے معلوم ہوا کہ جو نظم کالج میں ’فرار‘ کے عنوان سے پڑھی گئی۔ وہی بعد میں ’مجرم‘ کے عنوان سے رسالہ ’ساقی‘ میں شائع ہوئی۔

اس خودنوشت میں اخترالایمان کی دوسری بیگم سلطانہ کا بھی خاصا ذکر ہے۔ وہی بیگم سلطانہ ان کی جدوجہد، مشقت اور کلفت کی گواہ ہیں۔ انھوں نے اپنی بیٹیوں شہلا، اسماء اور رخشندہ اور اپنے بیٹے رامش اور داماد امجد خان کا بھی ذکر کیا ہے اور اپنی فلمی زندگی کے واقعات اور تجربات بھی درج کیے ہیں۔

اس خودنوشت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شعوری کوشش کارفرما نظر نہیں آتی۔ مصنف کے حافظہ میں جو واقعہ ابھرا۔ اسے بلا کم و کاست انھوں نے حوالۂ قرطاس کردیا ہے۔ اس میں ترتیب اور نظم و ضبط کا بھی خیال نہیںرکھا گیا ہے۔ بہت ساری باتوں کو مکرر بیان کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی شخصی نقوش اور اپنے دور کی سچائیوں کو پیش کردینے پر ہی اکتفا کیا ہے۔

منظر نگاری [فلش بیک] اختر الایمان کی پسندیدہ تکنیک ہے۔ انھوں نے نظموں میں بھی اس کا استعمال کیا ہے۔ خود نوشت میں بھی اس تکنیک کا خوب خوب استعمال ہوا ہے۔ اسی کے زیر اثر اپنے حالات زندگی کو مربوط قصہ بنانے کے بجاے ماضی ، حال اور مستقبل کواس طرح گوندھ دیا ہے کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا ممکن نہیں ہے۔ اظہار کا یہ طریقہ انوکھا ہی نہیں ندرت کا حامل بھی ہے جوقاری کے تجسس کو انگیخت کرتا رہتا ہے۔ نیز اس میں کیمرے کی تکنیک کا استعمال بھی نظر آتا ہے۔ اختر الایمان کی نثر میں جمال و زیبائی اور دل فریبی و رعنائی بھی ہے ۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں اپنی بات کہتے ہیں۔ یہ خیالات قاری کی زندگی سے اتنے قرب ہوتے ہیں کہ ان کی ترسیل آسانی سے ہوجاتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ’اس آباد خرابے میں‘ قارئین کے ہر طبقے میں مقبول ہے۔

*ریسرچ اسکالر، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

حواشی

(1) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۸

(2) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۱۶

(3) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص: ۴۹

(4) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۶۰-۵۹

(5) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص: ۱۵۸

(6) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۲۱۲

(7) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۲۰۶

(8) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۱۳۳

(9) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۹

(10) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۱۱

(11) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۸۱

(12) اختر الایمان: اس آباد خرابے میں، ص:۸۶

مآخذ

  1. اخترالایمان: اس آباد خرابے میں، دہلی، اردو اکادمی، ۱۹۹۶ء
  2. صبیحہ انور: اردو میں خودنوشت سوانح ،لکھنؤ، نامی پریس،۱۹۸۲ء
  3. وہاج الدین علوی: اردو خودنوشت فن و تجزیہ، نئی دہلی ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، ۱۹۸۹ء
  4. احمد علی شاہ: اردو میں سوانح نگاری، کراچی، پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۶۱ء
  5. الطاف فاطمہ: اردو مین فن سوانح نگاری کا ارتقا،دہلی، اعتقاد پبلشنگ ہاؤس،۱۹۷۴ء
  6. ممتاز فاخرہ: اردو میں فنِ سوانح نگاری کا ارتقا، دہلی، رونق پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۸۴ء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *