ڈاکٹر صغیر احمد

“آگے کی منصوبہ بندی کریں۔ نوح نے جب کشتی بنایا تھا اس وقت بارش نہیں ہو رہی تھی”۔ جنرل فیچرس کارپوریشن۔ (1)

پلاننگ فیصلہ سازی کا عمل ہے جس میں مقاصد کی تعیین اور ان  کو حاصل کرنے والی سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی میں، منیجر مستقبل کا اندازہ لگاتے ہیں، تنظیم کے اہداف کا تعین کرتے ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے مجموعی طور پر حکمت عملی تیار کرتے ہیں ۔ (2)

مندرجہ بالا تعریف سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہر تنظیم کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے۔ کیا غیر سرکاری تنظیموں خاص طور پر مقامی غیر سرکاری تنظیموں کے پاس بہترین منصوبہ بندی ہے؟ میری معلومات کی حد تک، منصوبہ بندی میں کمی کی وجہ سے غیر سرکاری تنظیمیں اس قدر فعال اور سرگرم نہیں ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہئے۔ غیر سرکاری تنظیمیں متعدد میدان میں کام کرتی ہیں لیکن ان کے پاس مستقبل کے لئے بہترین لائحہ عمل موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مستفیدین کو کس طرح سے خود اعتماد بنایا جائے، پروگرام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کیسے پہنچے اور مستقبل میں پروگرام کو کس طرح توسیع دیا جائے ان ساری چیزوں کے بارے میں غور وفکر کرنا اور بہترین منصوبہ بندی کرنا ایک کامیاب تنظیم کی علامت ہے۔

        غیر سرکاری تنظیمیں صحت، تعلیم اور روزگار جیسے میدانوں میں خاص طور پر کام کرتی ہیں۔ اگر تعلیم کے میدان میں دیکھا جائے تو غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون کافی اہم ہے۔ ان کی وجہ سے ہی دور دراز دیہی علاقوں میں بہتر تعلیم کا بندوبست ہو پاتا ہے اور سب کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی مہم کافی حد تک کامیاب ہو پاتی ہے۔ روزگار کی فراہمی، ماحولیات کی حفاظت اور صفائی سمیت دیگر شعبوں میں بھی غیر سرکاری تنظیموں کی کارکردگی کافی بہتر ہے۔

        لیکن سوال یہ ہے کہ کیا غیر سرکاری تنظیمیں اپنے مقاصد میں پوری طرح سے کامیاب ہیں؟ کیا آج ہر بچےکو تعلیم میسر ہے؟ کیا ہمارے سامنے بچہ مزدوری، گندگی اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل موجود نہیں ہیں؟  اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے غیر سرکاری تنظیمیں اپنے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے قاصر ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کے پاس وسائل کی کمی ہے تو اس کا سبب کیا ہے؟ میرے علم کے مطابق غیر سرکاری تنظیموں نے فنڈ ریزنگ کرتے وقت ان تمام وسائل وذرائع کا بھرپور استعمال نہیں کیا جن کی وجہ سے ان کو کافی مقدار میں فنڈ دستیاب ہو سکتے تھے۔ مثلًا  مقامی افراد کی حمایت اور تایید کے ذریعہ پروگرام کو کافی مقبول بنایا جا سکتا ہے اور ان سے فنڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ غیر سرکاری تنظیمیں سماج کی فلاح وبہبود کے لئے عظیم خدمات انجام دے رہی ہیں اور وہ سماج کی تعمیر میں بہتر رول ادا کر رہی ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عام لوگوں کا تصور ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں میں احتساب، شفافیت اور پروگرام کے نفاذ کا معیار سرکاری اداروں سے عمومًا بہتر ہوتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں آبادی کے ایک بڑے حصے تک اپنی خدمات پہنچاتی ہیں اس بات سے قطع نظر کہ مستفیدین کا مذہب اور عقیدہ کیا ہے۔

غیر سرکاری تنظیموں کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں؛

’’1- رضاکارانہ: تنظیم میں رضاکارانہ شراکت کے ایک اہم عنصر کے ساتھ شہریوں کے ذریعہ غیر سرکاری تنظیمیں رضا کارانہ طور پر بنائی جاتی ہیں، خواہ بورڈ کے اراکین کی تعداد کم ہو یا زیادہ ہو یا رضاکاروں کے ذریعہ دئے گئے وقت کی شکل میں ہو۔

2- آزاد: سوسائٹی کے قوانین کے اندر غیر سرکاری تنظیمیں آزاد ہیں اور ان پر ان کو تشکیل دینے والوں یا منتخب یا متعین کردہ بورڈ ممبروں کا کنٹرول ہوتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کی قانونی حیثیت اجتماع کی آزادی پر مبنی ہے جو کہ اہم بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے۔

1996 میں امم متحدہ کے ذریعہ تشکیل کردہ اور اب تک 135 ملکوں میں منظور کیا گیا بین الاقوامی معاہدہ برائے سیاسی و سماجی حقوق اکٹھا ہونے کی آزادی دیتا ہے۔

3- غیر منافع بخش: غیر سرکاری تنظیمیں نجی ذاتی منافع کے لئے نہیں ہوتی ہیں۔ بہت سے ممالک میں غیر سرکاری تنظیمیں آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتی ہیں، مگر ان کے لئے یہ لازمی ہے کہ آمدنی کو صرف تنظیم کے مشن کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کریں۔ دیگرکاروباری اداروں کی طرح غیر سرکاری تنظیموں کے پاس بھی ملازمین ہوتے ہیں جن کو ان کے کام کے عوض تنخواہ دی جاتی ہے۔ بورڈ کے اراکین کو ان کے کام کے لئے پیسہ نہیں دیا جاتا ہے البتہ بورڈ کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں جو خرچ ہوتا ہے اس کی باز ادائیگی کی جا سکتی ہے۔

4- مقاصد اور متعلقہ اقدار میں خود کے لئے کام نہ کرنا: غیر سرکاری تنظیموں کا مقصد عوام کے حالات اور امکانات کو بہتر بنانا ہے اور مجموعی طور پر سماج یا لوگوں کے امکانات یا حالات یا فلاح وبہبود کو متعین کرنے والے مسائل اور پریشانیوں پر کام کرنا ہے۔‘‘3

        غیر سرکاری تنظیموں کی متعدد قسمیں ہیں۔ ان کے کام کے اعتبار سے ہم ان کو مندرجہ ذیل زمروں میں تقسیم کر سکتے ہیں؛

’’کمیونٹی پر مبنی تنظیمیں (CBOs) جو لوگوں کے اپنے اقدامات کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ اسپورٹس کلب، عورتوں کی تنظیمیں، پڑوسی تنظیمیں، سماجی یا تعلیمی تنظیمیں ان میں شامل ہیں۔ ان کی بہت ساری قسمیں ہیں، کچھ غیر سرکاری تنظیمیں، قومی یا بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں یا دو طرفہ یا بین الاقوامی ایجنسیوں کے ذریعہ حمایت یافتہ ہوتی ہیں اور دیگر باہری امداد سے آزاد ہوتی ہیں۔ کچھ شہری غریبوں کے ضمیر کو بیدار کرنے کے لئے وقف ہیں یا انہیں ان کی مطلوبہ خدمات کو حاصل کرنے اور ان کے حقوق کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

شہری تنظیموں میں روٹیری یا لائنس کلب/ تجارت وصنعت کے چیمبرس، تجارت کے اتحادی، نسلی یا تعلیمی گروپ اور کمیونٹی تنظیموں کی ایسوسی ایشن شامل ہوتی ہیں۔ کچھ تنظیمیں دیگر مقاصد کے لئے بھی وجود میں آتی ہیں اور مختلف سرگرمیوں کے درمیان غریبوں کی مدد کرنے میں بھی شامل ہو جاتی ہیں، جبکہ کچھ تنظیمیں غریبوں کی مدد کے خاص مقصد کے لئے بنائی جاتی ہیں۔

قومی غیر سرکاری تنظیموں میں ریڈ کراس، وائی اے ایم سی ایز، وائی ڈبلیو سی ایز، پیشہ ورانہ تنظیمیں وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کی صوبائی اور شہری سطح پر شاخیں ہیں اور وہ مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی مدد کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں میں ریڈا بارنا ، سیو دی چلڈرین، آکسفام، کیئر فور اور روک فیلر فاونڈیشن جیسی سیکولر تنظیموں سمیت سے مذہبی مقاصد والی تنظیمیں شامل ہیں۔ ان کی سر گرمیوں میں بنیادی طور پر مقامی غیر سرکاری تنظیموں، اداروں، منصوبوں کو فنڈ مہیا کرانے سے لے کر ان منصوبوں کو بذات خود نافذ کرنا شامل ہوتا ہے۔‘‘(4)

حواشی                              

72

Print Friendly, PDF & Email

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *