ڈاکٹر شبنم اکبر*
شبلی نعمانی بہ یک وقت مورخ ادیب ماہر تعلیم اور جامع کمالات ضرور تھے مگر وہ فطری اعتبار سے ایک شاعر تھے۔ چنانچہ ان کی فکر کا پہلا قدم میدان شعر ہی میں پڑا۔ آغاز شباب سے ہی شعر کہنے لگے۔ ابتداً تسنیم تخلص اپنایا جسے بعد میں ترک کردیا ان کی ابتدائی شاعری کی یہ غزل ملاحظہ ہو۔؎
آں خسرو و عرش آستاں، آں داور گیتی ستاں
آں قبیلہ گاہ انس و جاں، آں خاتم پیغمبراں
دانائے اسرارِ نہاں، روح الامین اش پاسباں
گردوں برنگ چاکراں، خاک درش را بوسہ زن
پیش از ہے حشانش نگر، جبریل دربانش نگر
دربند احسانش نگر، علوی ہفت تن
آں تاجدار ملک دین، دارائی علم یقین
دانائے
