ڈاکٹر محمد اکمل
ایسو سی ایٹ پروفیسر، شعبۂاردو
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی، لکھنؤ
ڈاکٹر عبدالحفیظ
صدر، شعبۂ عربی
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی، لکھنؤ
“وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ” کے مطابق خدا کی عبادت و اطاعت ہر فرد بشرکے لیے لازم ہے کیونکہ خدا نے تخلیق جن و انس اپنی عبادت و ریاضت کے لئے ہی کی ہے، ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔ ماں باپ، گھر اور ماحول کے ذریعہ دکھائے گئے راستوں کوبچے کی سادہ فطرت آسانی سے قبول کرلیتی ہے، خواہ یہ راستے غلط ہوں یا صحیح۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر جماعت اور ہر گروہ نے کسی نہ کسی معبود کے آگے سر جھکایا ہے۔ تاریخ اگر ایک طرف یہ کہتی ہے کہ ہر قوم نے ہمیشہ کسی نہ کسی کو معبود مان کر پرستش کی ہے تو دوسری طرف یہ بھی کہتی ہے کہ خدا پرستی کے سلسلے میں انسان نے بارہا ٹھوکریں بھی کھائی ہیں۔ کبھی اس نے غیر اللہ کو خدا کی ذات میں شریک کیا تو کبھی حقوق و اختیارات میں دوسروں کو خدا کے ساتھ شریک ٹھہرایا اور کبھی مخلوقات کو خدا مان کر ان کی پرستش کرنے لگا۔ آج سے ساڑھے چودہ سوسال قبل اوپر والے نے انسانوں کو کفر و شرک کی تاریکی سے باہر نکالنے کے لیے حضرت محمد کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ جنہوں نے انسانوں کی مکمل رہنمائی کرکے راہ راست تک پہنچایا۔ اس کے بعد صحابۂ کرام کا دور آیا، یہ بھی گزر گیا، وقت گزرتا گیا، لوگ خدا اور راہ راست سے دور ہوتے گئے۔ اکبر کا دور آتا ہے، عجم کا ایک جادوگر (مولوی) اکبر کے ذہن و دماغ کو تبدیل کرتاہے کہ دین عربی بہت پرانا ہو گیا ہے، ایک نئے دین کی ضرورت ہے۔چنانچہ ایک شہنشاہ امی کے ذریعہ نبی امی کا دین منسوخ ہو کر دین اکبری کا ظہور ہوتا ہے۔
990ھ میں دین اکبری وجود میں آیا اور اکبر کی عبادت کی جانے لگی۔اسی عہد میں شیخ احمد بن عبد الاحد فاروقی سرہندی کی ولادت ہوتی ہے۔ تاریخ اسلام میں انہیں مجدد الف ثانی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شاہ عبد الرحیم دہلوی مجدد الف ثانی کے ہاتھوں پر بیعت کرنے کے بعد ان کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے خود کو وقف کر دیتے ہیں۔ 1114ھ میں شاہ عبدالرحیم دہلوی کے گھر میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی ولادت ہوتی ہے، شاہ عبدالرحیم دہلوی نے شاہ ولی اللہ کو ایسی تعلیم و تربیت دی کہ وہ بھی اپنے والد کی طرح مجدد الف ثانی کے پیغام کوعوام الناس تک پہنچانے میں لگ گئے۔
ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمان تاجروں کی ہندوستان میں آمد بغرض تجارت ہوئی۔آٹھویں صدی عیسوی کے ابتدائی ایام میں محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کرکے اپنی حکومت قائم کی۔گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں شمالی ہندوستان میں مسلم اقتدار کی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔ تیرہویں صدی عیسوی کے پہلے دہائی یعنی 1206ء میں دہلی سلطنت کے قیام کے ساتھ ہندوستان میں باقاعدہ مسلم حکمرانی کا آغاز ہوا، یہ سلسلہ 1857 (مغل سلطنت) تک جاری رہا۔
اٹھارہویں صدی میں مسلمانوں کی حکومت متزلزل ہو ئی،اب عام لوگوں کی عزت و آبرو اورجان و مال محفوظ نہیں رہی، سکھوں اور جاٹوں کی وجہ سے زندگی اجیرن ہوگئی تھی۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے سب سے پہلے اس ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی، انہوں نے دین و دنیا اور مذہب و سیاست میں حد فاصل قائم کئے بغیر جہاد پر زور دیتے ہوئے تحریک چلائی۔ سید احمد شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز کے زیر اثر دہلی میں رہے۔ انہوں نے سید احمد کو اپنے والدکے ذریعہ چلائی گئی تحریک کی قیادت کے لئے تیار کیا۔ سید احمد کو بچپن میں کھیل بالخصوص مردانہ، سپاہیانہ کھیل اور کبڈی کا بہت شوق تھا۔اکثر سید احمد لڑکوں کو دوجماعتوں میں تقسیم کرکے کہتے کہ ایک جماعت دوسری جماعت پر حملہ کرے۔ جب سید احمد سن بلوغ کو پہنچے توان کے اندر خدمت خلق کا جذبہ بیدار ہوا۔ سید احمد ضعیفوں ، اپاہجوں ، یتیموں اور بیواؤں کا خاص خیال رکھتے تھے۔سید احمد رات میں تہجد گزاری اور دن میں خدمت خلق اور اصلاح معاشرہ کا کام انجام دیتے تھے ۔
شاہ ولی اللہ نے مصلحین (شاہ عبد العزیز، شاہ عبد القادر، شاہ رفیع الدین، شاہ عبد الغنی، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید) کی ایک ٹیم تیار کردی تھی جس نے پوری ایک صدی تک اُس چراغ کو جلائے رکھا جسے مجدد الف ثانی نے روشن کیا تھا۔ ان مصلحین نے اپنے ملک ہندوستان کی تقدیر بدلنے اور مظلوموں کی داد رسی کی پوری کوشش کی۔ ملک کو جور و ستم سے نجات دلانے اور کلمۃ الحق کی بلندی کی خاطر علم جہادبلند کیا۔ لکھنؤ کی جامع مسجد (ٹیلے والی مسجد)کی سیڑھیوں پر شاہ اسماعیل کے مواعظ اور احیائےسنت اور بدعت کے خاتمے کے لئے ان کی کتاب ‘تقویت الایمان’ ہدایات کا روشن چراغ ثابت ہوئی۔
حدود مملکت اورشاہی اختیارات پر انگریزی غلبہ اور اقتدار کاٹھپہ لگ چکا تھا۔ انگریز اپنے اختیارات دن بدن بڑھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سب کچھ انہیں کے اختیار میں آ گیا۔ مسلمان بادشاہوں، وزراء اور امرا کو شراب و شباب کی لت پڑ چکی تھی، ان برائیوں کے باوجود لکھنؤمیں ایک بات تھی جو اودھ کے کسی اور شہر میں نہ تھی، لکھنؤ جیسا بھی تھا اودھ کا دارالسلطنت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہترین دل ودماغ کے علما وصلحا اور ادبا و شعرا وغیرہ یہاں پہنچا کرتے اور اس مرکزی شہر کو اپنا مرکز بنالیتے۔ فرنگی محل کے علماشہر میں خاص اثر رکھتے تھے۔ اسی خاندان کے ایک بزرگ مولانا عبد العلی ہیں ۔ قندھاریوں کی چھاؤنی (جس میں زیادہ تر پٹھان سپاہی تھے) میں اور دوسرے رسالہ داروں کی چھاؤنی میں بہت سے لوگ سیداحمدبریلوی اور ان کے خاندان سے عقیدت رکھتے تھے۔ عبد الباقی خاں قندھاری اور نائب جرنیل فقیر محمد خاں بہادر خاص طور پر سید احمد سے عقیدت رکھتے تھے۔ لکھنؤ پہنچنے کے بعد سیداحمد نے اکبری دروازہ کے قریب ‘میر مسکین’ کی حویلی میں قیام کیا، یہ حویلی اور شہر کا یہ تنگ علاقہ ایک سو ستر آدمیوں کے قافلہ کے لئے تکلیف دہ تھا،اس لئے دریاے گومتی کے کنارے شاہ پیر محمد صاحب کی مسجد (ٹیلے والی مسجد)کے قریب شیخ امام بخش سودا گر کی نئی حویلی میں قیام کے لئے منتقل ہوگئے۔
سید احمد کے لکھنؤ پہنچتے ہی لوگوں کا ان سے رجوع اور ملاقات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سب سے پہلے مولانا عبد الرب نے اپنے یہاں پورے قافلہ کی ضیافت کی، مرزا حسن علی محدث نے ایک بڑے اجتماع کا اہتمام کیا، جس میں شہر کے تقریباً پانچ سو عمائدین اور بااثر شخصیات موجود تھیں۔ لکھنؤکی ہر گلی اور محلے میں قافلے کا چرچا ہونے لگا توکچھ وہ لوگ بھی(جن میں امان اللہ خاں اور ان کے بھائی سبحان اللہ خاں شامل ہیں ) جن کی زندگی چوری، جرائم پیشگی اور آوارگی میں صرف ہوتی تھی سید احمدسے ملاقات کے لیے شاہ پیر محمد کے ٹیلہ پر آئے، لوگوں نے ان کو آتے دیکھ کر سیداحمد سے عرض کیا کہ یہ لوگ بڑے بدمعاش اور چور ہیں۔ اس پر سید احمد نے کہا کہ خبردار ان کے سامنے اس کا کوئی تذکرہ نہ ہو۔ ان شاء اللہ یہ لوگ توبہ و استغفار کریں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ کچھ خواتین نے بھی اس بہتی گنگا سے وضو کرنا چاہا۔ وہ حاضر ہوئیں اور توبہ و استغفار کے بعد قافلہ میں شامل ہوگئیں۔ قافلہ کے اثرات شہر سے گزر کرچھاؤنی تک پہنچے، رسالدار مینڈو خاں اور ان کے بھائی عبد اللہ خاں نے تمام عواقب ونتائج سے بے نیاز ہوکر سید احمد کو اپنی چھاؤنی میں بلایا۔ ان سے نصیحتیں حاصل کیں اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مولاناعبد الحئی کے ہردرس میں دوچار اہل تشیع توبہ کرکے اہل السنت والجماعت میں داخل ہورہے تھے۔ جس سے اہل حکومت کو تشویش لاحق ہوئی۔ چنانچہ پہلے شیعہ سنی اختلافات کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی۔ سید احمد کے حسن تدابیر کے باعث جب اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو جبر و تشدد کا سہارا لیا گیا اور سید احمد کو دھمکیاں دی جانے لگیں کہ اگر لکھنؤ سے کوچ نہ کیاگیا تو دوچار توپیں بھیج کر ان کی قیام گاہ کو اڑا دیا جائے گا۔ غلام رسول مہر نے اس کی وجہ یوں بیان کی ہے:
“سید صاحب سے بیعت کرنے والوں میں کچھ شیعہ بھی تھے۔ اس سے اکابرکو تشویش ہوئی اور انہوں نے سید صاحب کو منع کرادیا کہ شیعوں کو بیعت نہ کریں۔ سید صاحب نے اس کے تسلیم کرنے سے انکار کردیاتو پھر یہ طے کیا کہ سید صاحب کو لکھنؤ بدر کردیا جائے لیکن یہ بہت چھوٹی سی بات ہے اس پر یہ سزا کہ سید صاحب شہر بدر ہوجائیں ورنہ قیام گاہ کو توپ دم کردیا جائے گا۔”
چونکہ لکھنؤ کے بادشاہ اور وزیر شیعہ تھے اور انگریز دوست بھی۔ سید احمد یہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ شہر کے مسلمان جن میں شیعوں کی اکثریت تھی، فوج کا سنی عنصر برانگیختہ اور مشتعل ہو۔ اس لئے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے سید احمد نے لکھنؤ سے روانگی کا پروگرام بنالیا۔ جب سید احمد کی روانگی طے ہوگئی تو اس کے دوسرے روز نواب معتمد الدولہ وزیر اعظم نے سواریاں بھیجیں اور پورے قافلے کی شاندار دعوت کا اہتمام کیا۔ مولانا عبد الحئی نے نواب معتمد الدولہ کی مجلس میں وعظ فرمایا۔ نواب معتمد الدولہ نے تنہائی میں سید احمد سے ملاقات کے بعد توبہ و استغفار کیا ۔ قافلے کی روانگی کے بعد نواب غازی الدین حیدر نے بھی ملاقات کے لئے پیغام بھجوایا۔سید احمد نے لوگوں سے مشورہ کے بعد کہا کہ میرے تو جانے کی کوئی صورت نہیں ، وہاں جانے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، باقی جیسا آپ لوگوں کا مشورہ ہو، قافلے کی سفارش پر نواب غازی الدین حیدر سے ملاقات کے لئے مولانا عبدالحئی اور مولانا محمد اسماعیل کو بھیجا گیا۔ یہ دونوں حضرات پندرہ دن لکھنؤ میں ٹھہرے مگر اہل دربار نے اس کا خاص اہتمام رکھا کہ نواب غازی الدین حیدر کسی بھی وقت ہوش میں نہ آنے پائیں۔ جب فقیر محمد خاں بہادر اور پنڈوخاں نے دونوں صاحبان سے نواب غازی الدین حیدر کا یہ حال بیان کیا تو یہ لوگ نواب صاحب کو اطلاع کئے بغیر واپس چلے گئے۔
سید احمد نے اپنے ساتھیوں کی مدد سےسماجی و معاشرتی اصلاح کا کام خوب کیا۔ مثلاًبیوہ کا نکاح اس وقت ایسا گناہ تھا جس کا تصور کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ زبانی نصیحتیں اور وعظ اس میں کارگر نہیں ہوسکتی تھی۔ اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے سید احمد نے اپنی بیوہ بھاوج سے نکاح کیا۔ شاہ اسماعیل نے اپنی بڑی بہن کو مولانا عبد الحئی سے نکاح کرنے کی پیش کش کی، چونکہ شاہ اسماعیل کی بہن سن ایاس کو پہنچ چکی تھیں اس لئے انکار کردیا۔ شاہ اسماعیل کے یہ کہنےپر ‘اگر ہمارے ہی خاندان میں یہ کمی رہے گی تو ہماری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوگا’ مولانا عبد الحئی سے نکاح کے لئے راضی ہوگئیں۔سہارنپور کی پس ماندہ برادریوں کوامراکے کچھ معاملات میں برابری کی اجازت نہیں تھی، جیسے پس ماندہ برادری میں وہ کھانا نہیں پکایا جاسکتا جو امرا کے یہاں پکائے جاتے ہیں، پس ماندہ برادری کا آدمی کسی بڑے آدمی کی دعوت نہیں کرسکتا اور اپنے بچوں کا وہ نام نہیں رکھ سکتا جو نام کسی بڑے آدمی کا ہو۔ سید احمدکے قافلے نے اس برائی کو ختم کرنے میں بیس روز صرف کئے ۔ دیوبند میں شیخ حفیظ اللہ کے خاندان میں ‘السلام علیکم’ کے بجائے آداب وبندگی کارواج تھا۔ بڑے گھرانوں کو یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ کوئی چھوٹا ان کوالسلام علیکم کہے۔ یہ لفظ صرف مساوی مراتب والوں کے لئے مخصوص تھا۔ چھوٹے صرف آداب عرض، آداب یا بندگی جیسے الفاظ ہی استعمال کرسکتے تھے، سید احمد نے اس برائی کوختم کرکے مساوات اور انسانی بھائی چارگی کی حتی الامکان کوشش کی اور اس میں حد درجہ کامیاب بھی ہوئے۔ جب پہلی دفعہ شیخ حفیظ اللہ نے اپنے والد کو السلام علیکم کہا تو شدید برہم ہوئے ، رفتہ رفتہ وہ خود بھی متاثر ہوئے اور اپنے بیٹے کے ہاتھ پر سید احمدسے بیعت کی۔
سید احمد چار سو آدمیوں کے ساتھ شوال کی پہلی تاریخ 1236ھ مطابق 2؍جولائی 1821ء بروز دوشنبہ حج کے لئے روانہ ہوئے، انہوں نےرائے بریلی سے کلکتہ، کلکتہ سے مکہ، مکہ سے مدینہ پھر مدینہ سے مکہ ہوتے ہوئے ممبئی، ممبئی سے براستہ سمندر کلکتہ اور کلکتہ سے رائے بریلی کا سفر کیا تھا، سید احمد یکم رمضان 1239ھ مطابق 30؍اپریل 1824ء کو رائے بریلی پہنچے۔یہ سفر تقریباًسات ہزار میل پر مشتمل تھا۔
حج ایک مقدس فریضہ ہے جس کی ادائیگی صاحب حیثیت پر فرض ہے۔ اس سفر سے متعلق یہی کہاجاتا ہے کہ یہ سفر فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے تھا،لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ جس وقت سید صاحب اور ان کے رفقاء نے سفر حج کیا تھا، ان کو بمشکل دووقت کا کھانا نصیب ہوپاتاتھا تو کیا ایسےحالات میں شرعی نقطۂ نظر سے ان پر حج فرض تھا؟ شریعت میں حج اس وقت فرض ہوتا ہے جب اہل وعیال کی ضرورت سے مال اور سرمایہ اتنا زیادہ موجود ہوکہ آدمی بغیر کسی پریشانی کے سفر حج کی تمام ضروریات پوری کرسکے۔ کچھ علمانے اٹھارہویں صدی عیسوی میں پرتگالیوں کی بحری قزاقیوں کے باعث فریضۂ حج کی معافی کافتوی دے دیا تھا۔ علما کے فتاویٰ سے یہی سمجھا جانے لگا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں پر حج فرض نہیں ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مولانا عبد الحئی اور مولانا محمد اسماعیل کا ایک فتوی اور مولانا عبدالعزیز کی طرف سے اس فتوے کی تصدیق بھی کی گئی۔ سید احمد اور ان کے ساتھیوں کا کل سرمایہ توکل علی اللہ تھا یعنی وطن سے روانہ ہوتے وقت زاد راہ سے دامن خالی تھا۔ کچھ ساتھیوں نے توزمین وجائداد وغیرہ فروخت کرکے سفر میں شرکت کی جب کہ شریعت نے اس کا حکم نہیں دیا ہے۔ اگر اس سفر کا مقصد صرف اصلاح تھا تو شرعی فیصلہ اس کے حق میں مشکوک ہے۔ شریعت نہ اس کا مطالبہ کرتی ہے اورنہ ہی اس کی اجازت دیتی ہے کہ غلط عقیدہ کی اصلاح ایسے فعل سے کی جائے جس کا جائز ہوناخود مشتبہ اور مشکوک ہو۔
سید احمد نے جن حالات میں سفر حج کا اعلان کیا تھا،وہ فرضیت حج کے لیے ناکافی تھے۔ البتہ فرضیت انقلاب کے لیے وہ حالات کافی تھے، کیونکہ اسلامی تعلیم دینی انقلاب کو فرض قرار دیتی ہے۔ جب وطن عزیز پر اجنبی طاقت کا تسلط ہوجائے تو صرف اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی طور پر ہر ایک کا فرض ہوجاتا ہے کہ جہاں تک ہوسکے انقلاب کے لیے جد و جہد کرے۔ ایک مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ بال بچوں کو بھوکا وپیاسا چھوڑکر خالی ہاتھ حج کے لیے نکل پڑے۔ ہاں اگر وہ انقلابی مقصد کے لیے ایسا کررہا ہے تو اس کا ہرایک اقدام مبارک اور اس کی ہرایک قربانی باعث اجر ہے۔ سید احمد کے اس سفر کا ظاہری عنوان بے شک حج بیت اللہ تھامگر جو معنی اس عنوان میں مضمر تھے، وہ وہی تھے جو اس جماعت کا نصب العین تھا۔ سید احمد کے سفر حج کی تین وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں۔ پہلی وجہ سفر کی صعوبتوں کی وجہ سے بعض علمانے حج کے عدم فرضیت کا فتویٰ دے دیا تھا، جس سے دین کا ایک رکن منہدم ہوتا نظر آرہاتھا، اس ستون کو کھڑا کرنے کے لئے انہوں نے حج کیا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جو رفقاء سفر حج کی صعوبتیں برداشت کرسکیں گے ان پر جہاد بالسیف کے سلسلہ میں زیادہ اعتماد کیا جاسکے گا۔ ایسے لوگ خود پر بھی زیادہ اعتماد کرسکیں گے ۔ تیسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دوران سفر دعوت وتبلیغ کا کام انجام دیا جائےتاکہ شرک و بدعات کی تردید اور عقائد و اعمال کی اصلاح ہوسکے۔ حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ کے بعد سید احمد کے عزائم کے سلسلے میں ڈاکٹر ہنٹر تحریر کرتے ہیں:
“پہلے جو چیز خواب وخیال تھی، اب ان کو حقیقی روشنی میں نظر آنے لگی، جس میں انہوں نے اپنے آپ کو ہندوستان کے ہر ضلع میں اسلامی علم گاڑتے اور صلیب کو انگریزوں کی لاشوں تلے دفن کرتے محسوس کیا۔” (ہمارے ہندوستانی مسلمان، ص:89)
سید احمد کے زمانے میں باطل پرستوں ، سکھوں اور انگریزوں کا اقتدار تھا۔ شرک وبدعت زوروں پر تھا۔ بیوہ سے نکاح کو گناہ سمجھا جاتاتھا۔ سلام و پیام کی جگہ آداب عرض وغیرہ پایاجاتا تھا۔ عقیدہ وفکر، سیاست ومذہب ،معاشرت و معیشت کی ان تمام خرابیوں پرسید احمد شہید کی نظر تھی۔ انہوں نے سماج اور معاشرے میں اصلاح اور ان تمام خرافات کے خاتمے کے لئےاپنی زندگی صرف کردی۔ توحید خالص کی دعوت، تعزیہ داری اور قبر پرستی کا خاتمہ، آداب عرض وغیرہ کی جگہ السلام علیکم اور نکاح بیوہ گان سید احمد کی جد و جہد اور محنتوں کا ثمرہ تھا۔ ظلم وبربریت کو ختم کرنا، لوگوں کو امن وامان کی نعمت سے مالا مال کرنا، کلمۂ حق کو بلند کرنا اور شریعت محمدیہ کانفاذ ہی ان کامشن تھا۔
سید احمد کی جد و جہدسے کئی ایسے غلط عقائد درست ہوئے جنہیں مذہبی اعتبار سے درست سمجھا جاتا تھا، ان کی وجہ سے معاشرے میں پائی جانے والی کئی برائیوں کا خاتمہ ہوا۔ سید احمد بریلوی اردو کے شاعر یا ادیب نہیں تھے پھر بھی اردو زبان کے فروغ میں ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کو بھی متأثر کیا۔ ان کے عہد میں اردو عوامی زبان بن چکی تھی، انہوں نے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اردو کو ذریعۂ اظہار بنایا، کیونکہ یہی زبان عام ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی تھی۔
سید احمد اور ان کے رفقاء نے اپنا پیغام عوام تک پہنچانے کے لئے عوامی لب و لہجہ اور عوامی زبان کا استعمال کیا۔ شاہ عبدالعزیز، شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین کے زمانے میں بیشتر کتابیں اردو میں تصنیف کی گئیں اور اردو میں قرآن کے تراجم ہوئے۔ شاہ اسماعیل شہید نے اپنی کتاب ردالاشراک کا اردو ترجمہ تقویت الایمان کے نام سے کیا، یہ ترجمہ شاہ اسماعیل شہید نے لکھنؤ کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آسان اردو نثر میں کیا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں :
“ان (شاہ اسماعیل شہید) کی اہم ترین کتاب تقویت الایمان ہے جو انہوں نے اردو زبان میں اس وقت لکھی جب اس زبان کو ابھی گھٹنیوں چلنا نہ آتا تھا۔ حیرت ہوتی ہے کہ اس زمانے میں جب کہ اردو نثر میں گنتی کی کتابیں تھیں، ایک صاحب کمال نے اس میں کیا جادو بھر دیا۔” (موج کوثر، ص: 36)
اس کے علاوہ اسی زمانے میں مولانا محمد اسحاق نےمشکوٰۃ شریف کا اردو ترجمہ کیا، شاہ عبدالقادر موضح القرآن میں اردو میں تشریحی تحریریں پیش کرتے ہیں ، مولانا محمد جعفر تھانیسری نے تاریخ عجیب، کالا پانی اور سوانح عجیبیہ کے نام سے تین کتابیں اردو میں تصنیف کی ہیں، یہ کتابیں تحریک سید احمد اور ان کے اسلامی اجتہاد کی تاریخ پر روشنی ڈالتی ہیں۔
سید احمد بریلوی کے خطوط، ملفوظات، تقاریر اور رسائل اردو میں تحریر کئے گئے ہیں، سید احمد سے متعلق لکھی گئی سوانحی اور اصلاحی کتابوں نے اردو زبان و ادب کو تقویت بخشی ہے۔ ان کے رفقا اور مریدوں نے بھی اردو زبان میں اصلاحی تحریریں تخلیق کرکے مذہبی، اخلاقی، سماجی و معاشرتی اور اصلاحی زبان کی ایک مضبوط بنیاد رکھی کی۔سید احمد کی کوششوں نے مذہبی و معاشرتی اصلاح کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں اصلاحی فکر کو فروغ دیا۔ سید احمد کے افکار و نظریات سے متاثر ہوکر کئی علما، ادبا اور مصلحین نے اردو میں اخلاق ومعاشرت، دین اسلام اور قومی بیداری کے موضوعات پر نمایاں تحریریں پیش کی ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو ادب میں مقصدیت اور اصلاحِ معاشرہ کا رجحان مضبوط ہوا۔
مراجع و مصادر
- سیرت سید احمد شہید ؒ (حصہ اول ، دوم) ، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، 1977ء
- کربلا سے بالا کوٹ تک ، محمد سلیمان فرخ آبادی، مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی، 1971ء
- ہمارے ہندوستانی مسلمان، ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر مترجمہ ڈاکٹر صادق حسین، اقبال اکیڈمی، لاہور، 1944ء
- القرآن المجید، سورۃ الحجرات
- سر گذشت مجاہدین، مولانا غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز لمیٹڈ پبلشرز، لاہور
- جدید اردو تنقید اصول و نظریات، ڈاکٹر شارب ردولوی، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 2002ء
- اردو ادب کی تحریکیں ، ڈاکٹر انور سدید، کتابی دنیا، دہلی، 2008ء
- موج کوثر، شیخ محمد اکرام، ادبی دنیا، 510 مٹیا محل، دہلی، 1962ء
- سید احمد شہید، غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز، لاہور، اشاعت سوم 1981
- شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک، عبیداللہ سندھی، سندھ ساگر اکادمی، لاہور، 1945ء
- تقویۃ الایمان، حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی، شیخ الاسلام اکیڈمی، گلی بتاشے والی، کھاری باولی، دہلی،
1
