ڈاکٹر محمد خبیب
استاد شعبۂ فارسی، لکھنؤ یونیورسٹی
حضرت شیخ احمد سرہندی معروف بہ مجدد الف ثانی ؒ ( ۱۰۳۴۔۹۷۱ھ ؍ ۱۶۲۴۔ ۱۵۶۴ء)کے مکتوبات، جہان تصوف میں ’’مکتوبات امام ربانی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہیں، یہ مکتوبات ضخیم تین دفتروں میں کل ۵۳۶ مکتوبات پر مشتمل ہیں ، دفتر اول، موسوم بہ درالمعرفت ہے جو اس د فتر کا تاریخی نام ہے، اس دفتر کی تکمیل ۱۰۲۵ھ میں ہوئی، یہ دفتر کل ۳۱۳؍ مکتوبات پر مشتمل ہے اس کے جامع خواجہ یار محمد جدید بدخشی طالقانیؒ ہیں جو حضرت مجددؒ صاحب کے مرید ہیں، دوسرے دفتر کے دیباچہ میں درج ہے کہ جب حضرت مجدد نے سنا کہ ۳۱۳ مکتوبات جمع ہوچکے ہیں تو ارشاد فرمایا کہ چونکہ ۳۱۳ کا عدد ایک مبارک عدد ہے کیونکہ حضرات پیغمبر ان مرسلین علیہم السلام کا بھی یہی عدد ہے، اور حضرات صحابہ اہل بدر رضی اللہ عنہم کا بھی یہی عدد ہے اس لئے دفتر کو اسی مبارک عدد پر تیمناً ختم کردو(۱)۔ دفتر اول کے مکتوبات میں تصوف کے تمام مقامات واحوال مثلا عروج وھبوط، فنا وبقا، مراقبہ ومشاہدہ ، جذب وسلوک ، جلال وجمال، ذات وصفات حق تعالی، مقام عبدیت اور سیر الی اللہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ دفتر دوم، موسوم بہ نورالخلائق ہے یہ تاریخی اسم ۱۰۲۸ء سے نکلتا ہے جو اس کے جمع ہونے کی تاریخ ہے اس میں کل ۹۹؍مکتوبات ہیں اس کے جامع خواجہ عبدالحی ؒ ابن خواجہ چاکر حصاری مرید حضرت مجدد صاحب ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ مخدوم زادہ یعنی شیخ مجدالدین عرف خواجہ محمد معصوم (صاحبزادہ حضرت مجددؒ صاحب) کے حکم سے میں نے ان مکتوبات کو جمع کیا ہے، (۲) تیسرے دفتر کے دیباچہ میں درج ہے کہ جب ۹۹ عدد کے برابر مکتوبات جمع ہوگئے تو دوسرے دفتر کو تبرکاً اس پر ختم کردیا گیا کیونکہ اسماء حسنی کابھی یہی عدد ہے( ۳)۔ دفتر دوم کے مکتوبات میں اسلامی نظریات وعقائد اور ملت کی زبوں حالی اور آشفتہ سری کو قلمبند کیا گیا ہے۔ دفتر سوم ،موسوم بہ معرفۃ الحقائق ہے اس میں کل ۱۲۴؍ مکتوبات ہیں ، دفتر دوم کے اختتام کے بعد دفتر سوم کی تریتب وتدوین کا آغاز میر محمد نعمان نے کیا لیکن میر نعمان کو دکن جانا پڑا اور حضرت مجدد ؒ کو جہانگیر کے دربار میں حاضر ہونا پڑا جہاں سجدۂ تعظیمی نہ کرنے کی وجہ سے ماہ جمادی الاخریٰ ۱۰۲۸ ھ کو قلعہ گوالیار میں محبوس کردیا گیا جس کی بناپردفتر سوم کی تکمیل رک گئی اس کے بعد جب حضرت مجدد ؒ کو رہائی نصیب ہوئی تو پھر مکتوب نویسی کا سلسلہ جاری کیا اور۱۰۳۱ھ میں ان مکتوبات کی جمع آوری کے لئے خواجہ محمد ہاشم کشمی کو منتخب کیا جنھوں نے اسی سال( ۱۰۳۱ھ؍) میں دفتر سوم کو پایۂ تکمیل تک پہونچایا، پہلے اس میں ۱۱۳ مکتوبات شامل کئے گئے تھے اور بعد میں ایک مکتوب کا اضافہ کرکے قرآنی سورتوں کے مطابق مکتوبات کی تعدا د ۱۱۴ رکھی گئی تھی، (۴) اس دفتر کے مکتوبات میں مریدین کی خاص تربیت ، تبلیغ اسلام کی رغبت اور امت کے تن مردہ میں حیات نو پیدا کرنے کا درس ملتا ہے۔
زبدۃ المقامات کی روایت کے مطابق دفتر سوم کے بعد دفتر چہارم کا آغاز کیا گیا لیکن ابھی ۱۴؍ ہی مکتوبات رشتۂ تحریر میں آسکے تھے کہ حضرت مجدد صاحب ؒ کا انتقال ہوگیا اور ان ۱۴؍ مکتوبات کو بھی دفتر سوم میں شامل کردیا گیا ۔( ۵) اس اعتبار سے دفتر سوم کے مکتوبات کی تعداد ۱۲۸ ؍ ہونی چاہئے لیکن مطبع منشی نول کشورسے شائع شدہ تمام نسخوں میں تعد اد۱۲۳ ؍ ہے سوائے طبع ششم کے کہ اس میں مکتوبات کی تعداد ۱۲۲ ؍ ہے، اس کے بعد جب مولانا نور احمد امرتسری نے مکتوبات کو شائع کیاتو دفتر سوم میں مکتوبات کی کل تعدا د ۱۲۴ ؍ رکھی اور آخری مکتوب( ۱۲۴) کے بارے میں حاشیہ میں تحریر کیا:
’’بدان کہ این مکتوب در بعضی نسخ خطیہ یافتہ شد فالحقناہ وجعلناہ خاتمۃ المکاتیب ۔ وحضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ نسبت بہ این مکتوب فرمودہ اند کہ آن مکتوب داخل جلدھای مکتوب قدسی آیات نشدہ‘‘(۶)
یہ بات قابل تعجب ہے کہ مولانا نور احمد امرتسری خود لکھتے ہیں کہ خواجہ معصوم نے مکتوب ۱۲۴ کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ مکتوب مکتوبات امام ربانی کے دفاتر میں شامل نہیں ہے، اور پھر اس کو شامل بھی کردیتے ہیں۔
چونکہ مولانا نور احمد امرتسری کے شائع کردہ مکتوبات ہی پورے عالم میں متداول ہیں اس لئے مکتوبات کی کل تعدا د ۵۳۶ ؍ ہی مانی جاتی ہے ، اگرچہ دفتر سوم کا مکتوب نمبر ۴۰ اور ۱۱۵ ؍ مضمون اور عبارت کے لحاظ سے ایک ہی ہے سوائے مکتوب نمبر ۱۱۵؍ کا آخری پیراگراف’’ دیگر فرزندی محمد سعید۔۔۔سے۔۔۔۔۔متحلی باشد۔۔تک‘‘ اگر ان دونوں مکتوبات کو ایک ہی مان لیا جائے تو پھر تعداد ۵۳۵ ؍ ہی رہ جاتی ہے۔ الغرض مکتوبات کی معروف کل تعداد ۵۳۶ ہے جن کے مکتوب الیہم ۱۹۲ ہیں ۔ ان میں ۲۰مکتوبات وہ ہیں جو حضرت مجدد صاحب نے اپنے پیر کو تحریر کئے ہیں، دو مکتوبات اپنی کسی مریدہ عورت کو’’ بہ عنوان یکے از صالحات ‘‘لکھے ہیں ،ایک خط سلطان وقت (غالباً سلطان نور الدین جہانگیر) کو، ایک مکتوب ہردے رام کسی ہندو کو، بقیہ اپنے معاصرین معتقدین ومریدین کو لکھے ہیں ان میں سے اکثر مکتوبات کی حیثیت آج کی اصطلاح میں مقالات کی سی ہے۔ یہ تمام کے تمام مکتوبات مختلف افراد کومختلف اوقات میں تحریر کئے گئے جن میں سے تقریبا دو تہائی مکتوبات آپ سے استفسار کئے گئے سوالات کے جوابات ہیں ، ان مکتوبات کی جمع آوری کے بعد بہت جلد ہی ان کی نقلیں ایران، افغانستان ، روم ، بدخشاں اور دیگر مقامات پر بڑی تیزی سے پھیل گئیں۔ حضرت مجدد ؒ کی شہرت ان ہی مکتوبات کی بدولت اپنے بام عروج پر پہنچی اور ان کی شخصیت مرجع خلائق بنی ۔
حضرت مجددؒ کے یہ مکتوبات حکمت ومعرفت کا بحر نا پیدا کنار، تصوف کے علوم ومعارف کاگراں قدر سرمایہ ،دقیق علمی و کلامی مباحث کا بیش قیمت خزانہ اور صحیح عقائد وافکار کی بہترین تعبیر وتشریح ہیں۔ یہ مکتوبات شریعت وطریقت کی ہم آہنگی ویکتائیت کوواضح کرتے ہیں، تصوف اسلامی و تصوف غیر اسلامی کے درمیان فرق کو عیاں کرتے ہیں اور تصوف کے اس چشمۂ صافی کی نشاندہی کرتے ہیں جس سے سیرابی نظر و قلب کو پاک ومنور بنا دیتی ہے۔یہ مکتوبات روحانی وباطنی مسائل کی عقدہ کشائی کے لئے ایک مرشد ومربی کی حیثیت رکھتے ہیں ، ان مکتوبات کاایک ایک جملہ خلوص میں ڈوبا ہوا ہےاور ایک ایک سطرراہ سلوک کے رہرؤوں کے لئے صادق جذبوں کی شاہکار ہے ۔ یہ مکتوبات نمود ونمائش کی پالش سے صیقل نہیں کئے گئے کہ جن میں قاری کومتاثر کرنے کی وقتی جاذبیت ہو اور نہ ہی یہ کوئی روکھا پھیکا نصیحت نامہ ہے کہ پڑھنے والا بوجھل ہوجائے بلکہ اس کی ایک ایک حرف میں حسن خلق اور حسن ادب کی حلاوت کے ساتھ وہ اثر پذیری ہے کہ دوران مطالعہ قاری پرکبھی ر قت طاری ہوتی ہے اور کسی وقت وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ میں مجدد الف ثانی ؒ کی مجلس میں سرشار ومست بیٹھا ہوں ۔ لیکن ان مکتوبات سے کما حقہ وہی شخص استفادہ کرنے پر قادر ہوسکتا ہے جو فارسی زبان سے آشنا ہو اور وہ بھی قدیم فارسی زبان سے جس میں عربی الفاظ وتراکیب کی آمیزش حد درجہ ہوتی ہے چنانچہ جو افراد جدید فارسی کے ماہرین میں سے ہیں ان کے لئے بھی ان مکتوبات کی درست قرأت ہی ایک دشوار گذار کام ہے چہ جائیکہ ان مکتوبات کو سمجھنا۔اور جو فارسی زبان سے بالکل نا بلد ہیں ان کے لئے تو اس سے استفادہ ایک امر محال ہے ، اسی امرمحال کی عقدہ کشائی کے لئے محبان علم ومعرفت اور اسیران شریعت وطریقت نے اردو داں طبقہ کے لئے اردو زبان میں ان مکتوبات کا ترجمہ اورتشریح کرکے سالکین تصوف کے لئے ’’قوت القلوب ‘‘ فراہم کیا ، ان تراجم میں کچھ کامل تراجم بھی ہیں اور کچھ ناقص بھی جبکہ بعض حضرات نے ان مکتوبات کی تلخیص اردو زبان میں پیش کی ہے۔چنانچہ راقم السطور اپنے اس مضمون میں مکتوبات کے اردو تراجم وملخصات کا ایک جائزہ پیش کررہا ہے تاکہ مکتوبات کے تراجم سے استفادہ کے جویا حضرات کو بہتر رہنمائی مل سکے اور ان تراجم کی اہمیت وافادیت بھی واضح ہوسکے۔
مکتوبات کے کامل اردو تراجم:
(۱)ترجمۂ قاضی عالم الدین :مکتوبات امام ربانی کا اردو میں پہلا مکمل مطبوعہ ترجمہ، قاضی عالم الدین نقشبندی کا ہے ، اگرچہ قاضی صاحب نے خود اپنی تصنیف ’’ کنز القدیم فی آثار الکریم‘‘ میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان کے پیر حافظ محمد عبد الکریم صاحب نقشبندی مجددی ؒنے مکتوبات کا ترجمہ ایک سرحدی عالم سے کرایا تھاجس کی اس وقت کے مشہور خوشنویس اور کاتب قاضی محمد حسن نے حافظ عبد الکریم ؒ کے حکم پر تین ضخیم جلدوں میں کتابت کی اور اس ترجمہ کی شکل یہ تھی کہ ایک سطر فارسی کی اور ایک سطر اردو کی تھی جس طرح قدیم طرز کی کتابوں اور قرآن مجید کے ترجمہ ملتے ہیں، لیکن یہ ترجمہ زیور طبع سے آرستہ نہ ہوسکا اور یونہی خطی شکل میں حافظ عبدالکریم ؒکی خانقاہ میں رہا یہاں تک کہ جب قاضی عالم صاحب کا ترجمہ طباعت کے مرحلہ سے کذر گیا تو پیر حافظ عبد الکریم ؒ نے حضرت مجدد علیہ الرحمہ کی اولاد میں سے ایک بزرگوار کو جو علاقہ یاغستان کے رہنے والے تھے بطور ہدیہ، یہ ترجمہ عنایت فرمادیا ۔اور اسکے بعد اس ترجمہ کا کوئی سراغ نہیں ہے یہ تمام تفصیلات خود قاضی صاحب نے اپنے پیرحافظ عبد الکریم ؒ کے احوال وکوائف پر تالیف کردہ کتاب ’’ کنز القدیم فی آثار الکریم‘‘ میں ذکر کی ہیں ،(۷) لیکن یہ تفصیلات اس قدر ناکافی ہیں کہ اس سے نہ تو مترجم کا نام معلوم ہوتا ہے اور نہ ان کے حالات اور نہ جن یاغستانی بزرگ کو یہ خطی نسخہ ہدیہ کیا تھا ان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوتی ہے اگر ان بزرگ کے بارے میں قاضی صاحب نے کچھ اشارات درج کردیئے ہوتے تو شاید اس ترجمہ کے نسخہ خطی کے بارے میں کوئی اطلاعات حاصل ہوجاتیں لیکن اب یہ ترجمہ ناپید ہے اور عدم کے درجہ میں ہے ۔ اسی بناپر قاضی عالم الدین صاحب کے ترجمہ کو ہی اردو کاپہلا کامل ترجمہ ماناجاتا ہے یہ ترجمہ بھی قاضی صاحب نے اپنے پیر ومرشد حافظ عبد الکریم صاحب نقشبندی مجددیؒ کی ایماء پر کیا اور جہاں الفاظ اور اصطلاحات تصوف میں دقت آتی آپ کے پیر بزرگوار اس کو حل کرادیتے (۸)جس کی بنا پر قاضی صاحب کے لئے ایک بڑا مشکل کام نسبتًا آسان ہوگیا تھا ۔ اس ترجمہ کی اشاعت کی سعادت ملک فضل اللہ ( اللہ والے کی قومی دکان کشمیری بازار لاہور) کے حصہ میں آئی جسے دوسری بار ۱۹۱۳ء میں شائع کیا گیا،تیسری بار اس ترجمہ کو ملک صاحب کے فرزند ملک چنن دین نے ۱۹۵۷ء میں شائع کیا ۔اور اس کے بعد متعدد اداروں نے اس کو زیور طبع سے آراستہ کیا ۔پھر ۲۰۰۴ ء میں کمپیوٹر کمپوز شدہ ترجمہ ضیاء القرآن پبلی کیشنر، لاہور سے شائع ہوا ۔اس نئے ایڈیشن کے شروع میں محمد عالم مختار حق کا پیش گفتار ہے جس میں مکتوبات کے جزوی تراجم اور ملخصات کا تذکرہ کیا گیا ہے بعد ازاں قاضی صاحب کے ترجمہ کی روداد ِتالیف اور اس کی اشاعتوں کا ذکرہے پھر معًا اس کے بعد مولانا سعید احمد نقشبندی کے ترجمہ پر قا ضی صاحب کے ترجمہ کا سرقہ اور نقل کے حوالہ سے شدید تنقید ہے اورقاضی صاحب کے ترجمہ کی طبع جدید کی ضرورت کا ذکر ہے۔اور آخر میں صاحب ترجمہ کے حالات مذکور ہیں۔
اس ترجمہ کے شروع میں’’ جواہر مجددیہ‘‘ کے عنوان سے حضرت مجدد کے احوال وکوائف کو چارعناوین کے تحت ذکر کیا گیا ہے اور ہر عنوان کو ’’جوہر‘‘ کا نام دیا گیا ہے اس ’’جواہر مجددیہ‘‘ کو احمد حسین خان ؒ نے ناشر کی فرمائش پر سپرد قرطاس کیا تھا اور اس کو مقدمہ کے طور پر ترجمہ سے قبل شامل کیا گیا تاکہ مکتوبات کی قرأت سے قبل قاری ، صاحب مکتوبات کے حالات سے واقف ہوجائے، ان چاروں کے نام مندرجہ ذیل ہے
پہلا جوہر: آپ کے ابتدائی حالات اور خاندانی حالات کے بیان میں۔
دوسرا جوہر:آپ کی ولادت آپ کے علم شریعت اور علم طریقت کے بیان میں۔
تیسرا جوہر:آپ کے مخصوص کمالات اخلاق اور اعمال کے بیان میں۔
چوتھا جوہر:آپ کی تصانیف ، تعلیم ، وصال ، صاحبزادگان اور خلفاء کے بیان میں۔
مکتوبات کے اس ترجمہ کے آخر میں رسالہ’’ مبدأ ومعاد‘‘ کا ترجمہ بھی لاحق ہے یہ رسالہ حضرت مجدد ؒ کے متفرق مضامین کا مجموعہ ہے جن میں آپ نے اپنے پیر ومرشد حضرت خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں ۱۰۰۸ ھ میں حاضر ہو کر طریقۂ نقشبندیہ کے حصول اور تقریبا دس سال بعد تک کے بعض کشف والہام کو بیان کیا ہے آپ کے خلیفہ محمد ہاشم کشمی ؒ نے ۱۰۱۹ ھ میں ان کی ترتیب کی تکمیل کی اور ان کو ’’ منھا ‘‘ کا عنوان دیکر ایک دوسرے سے ممتاز کیا جن کی مجموعی تعداد اکثر نسخوں میں ۶۱ ہے در حقیقت یہ تعداد ۶۰ ہے مگر ان کے جامع محمد صدیق کشمیؒ نے آخر میں اپنی طرف سے حضرت مجدد کی تحریروں میں بظاہر نظر آنے والے تضاد کے متعلق جو لکھا اس کو ایک اور’’ منھا ‘‘کے ذریعہ ذکر کردیا جس سے کل تعدا د ۶۱؍ ہوگئی ورنہ اصل تعداد ۶۰؍ ہی ہے۔
: ترجمۂ قاضی عالم الدین کی خصوصیات
(الف ) اس ترجمہ کی سب سے بڑی خوبی اس کی سلاست وروانی ہے ،ترجمہ پڑھنے کے دوران قاری کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ پڑھ رہا ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے ایک اردو میں تصوف کی تحریر کردہ کسی طبع زاد تصنیف کا مطالعہ کررہاہے مترجم نے تر جمہ میں ایسی خلاقانہ اور فنکارانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ معانی کا الفاظ سے ربط بھی قائم رہا اور ترجمہ میں سلاست وشگفتگی بھی پیدا ہوگئی ہے ۔اور یہی کسی ترجمہ کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے کہ الفاظ اور معانی کا ربط بھی بر قرار رہے اور سلاست وروانی کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں زبانوں پر عبور ہو چونکہ قاضی صاحب کودونوں زبانوں پر کامل دسترس حاصل تھی اس لئے یہ ترجمہ فنی خوبیوں پر کھرا اترا اور بعد کے مترجمین کے لئے قابل تقلید بنا۔
(ب) اصطلاحات تصوف کو سہل انداز میں بیان کیاگیا ہے ۔ مکتوبات میں تصوف کی ادق اصطلاحات وتعبیرات موجود ہیں جن کو سمجھنا انتہائی مشکل امر ہے لیکن قاضی صاحب نے ان اصطلا حات کو انتہائی آسان پیرایہ میں ترجمہ کی کوشش کی ہے جس کی بنا پر یہ اصطلاحات ایک عام قاری کے لئے اثناء مطالعہ فہم عبارت میں مخل نہیں ہوتی ہیں اگر ان کو آسان الفاظ کے قالب میں نہ ڈھالا گیا ہوتا تو جگہ جگہ یہ اصطلاحات قاری کے لئے مضمون فہمی میں رکارٹ بنتیں۔
(ج) مکتوبات میں موجود فارسی وعربی اشعار کا ترجمہ ہم وزن اردو اشعار میں کیاگیا ہے۔ اشعار کا ترجمہ خود مستقل ایک مشکل مرحلہ ہے اور پھر ترجمہ ہم وزن شعری صورت میں کرنا اس سے زیادہ دشوار کام ہے لیکن قاضی صاحب نے بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے اشعار کے ترجمہ کو شعری قالب میں کرکے اس دشوار ترین گھاٹی کو کامیابی کے ساتھ عبور کیا۔ مزید برآں جو اردو کے اشعار ترجمہ کی شکل میں نقل کئے ہیں وہ اتنے عام فہم اور سہل ہیں کہ قاری کے لئے ان کو سمجھنا بالکل بھی مشکل نہیں ہے بلکہ ان سے متن میںموجود شعر کی مراد کی طرف رسائی بھی بآسانی ہوجاتی ہے۔
(د) ترجمہ میں جدید اسلوب نگارش کو ملحوظ رکھا گیا ہے ، جہاں مکتوب میں ذکر کردہ کوئی مضمون پورا ہوا تو اس کو نئے پیرا گراف سے شروع کیا گیا ،تاکہ مضمون فہمی میں آسانی ہو اسی طرح بین القوسین اور فل اسٹاپ جیسے علامتی رموز کا بھی استعمال کیا گیا ہے جس سے ایک جملہ کی تکمیل اور دوسرے جملہ کے شروع ہوجانے کا علم بآسانی ہوجاتا ہے آج سے سو سال قبل لکھے جانے والے ترجمہ میں ان لفظی محاسن کا موجود ہونا اس کی اہمیت کو دو بالا کردیتا ہے۔
(۲) ترجمۂ سعید احمد نقشبندی :مکتوبات کا دوسرا کامل ترجمہ محمد سعید احمد صاحب نقشبندی ؒ کا ہے۔ مولانا سعید صاحب نقشبندی نے حضرت سید نور الحسن شاہ بخاری ؒ ( م ۱۳۷۲ھ) ساکن حضرت کیلیا نوالہ خلیفہ ارشد شیر ربانی حضرت میاں شیر محمد شرق پوری ؒ (م ۱۳۴۸) سے روحانی فیض پایا ہے۔ آپ کو روحانی علوم کے ساتھ ساتھ ظاہری علوم میں بھی ید طولی حاصل تھا، آپ نے جہاں رشد وہدایت کا سلسلہ جاری کیا تھا وہیں علوم شرعیہ کی تدریس میں بھی مشغول رہے چنانچہ آپ دار العلوم نعمانیہ اور دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں صدر مدرس کے عہدہ پر فائز رہے ۔ا س کے علاوہ ایک طویل عرصہ تک حضرت شیخ علی احمد ہجویری المعروف داتا گنج بخش ؒ کی مسجد میں خطیب رہے ۔ اسی بنا پر آپ کو شہرت بسیار حاصل تھی اور اسی شہرت کی بنا پر اس ترجمہ کو مقبولیت عامہ حاصل ہوئی ۔اس ترجمہ کے محرک حکیم محمد موسی امرتسری صاحب ہیں جنھوں سعید احمد صاحب کو اس بار عظیم کی ادائیگی پر ابھارا اور پھر خود ایک تفصیلی دیباچہ اس ترجمہ کے شروع میں تحریر کرکے ترجمہ کی اہمیت کو دو بالا کردیا ، اس تفصیلی مقدمہ میں مکتوبات کا تعارف ، ان کی تعداد ، ترتیب وتدوین کی کیفیت ، مکتوبات کے مطبوعہ ایڈیشن اور اس کے اردو وعربی تراجم اور ملخصات کا ذکر ہے پھر آخر میں اس ترجمہ کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس مقدمہ کی ایک خاص بات ہے کہ حکیم موسی امرتسر ی صاحب نے بعض تحقیق طلب امور کی طرف توجہ مبذول کرائی ، جن میں سے کچھ امور پر بعد کے محققین نے خامہ فرسائی کی ہے اور کچھ پہلو اب بھی ناقص اور تشنہ ہیں خدا کرے ’’ مردی ازغیب بیرون آید وکاری بکند‘‘ ۔
مولانا سعید صاحب کے ترجمہ کا مطالعہ اس تلخ حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ اس میں مترجم کی ذاتی محنت کم ہے قاضی صاحب کے ترجمہ کی نقل اور سرقہ پر توجہ زیادہ ہے ، اکثر مکتوبات کا ترجمہ کچھ معمولی رد وبدل کے ساتھ من وعن نقل کردیا گیا ہے ۔لیکن چونکہ مترجم ایک مشہور شخصیت تھے اور مریدین و متوسلین کی ایک بڑی تعداد ان سے وابستہ تھی اس لئے ترجمہ کو شہرت حاصل ہوگئی اور اس وقت قاضی صاحب کا ترجمہ بھی نایاب ہوچکا تھا اس لئے اس ترجمہ کو اور قبولیت عامہ حاصل ہوئی ، لیکن اس کے بعد جب قاضی صاحب کا ترجمہ مختار عالم صاحب کے پیش گفتا ر کے ساتھ دوبارہ طباعت کے مرحلہ سے گذرا اور دونوں ترجموں کا موازنہ کیا گیا تو معلوم ہو ا کہ یہ تو قاضی صاحب کے ترجمہ کا چربہ ہے ۔ لیکن اس ترجمہ میں کچھ مفید چیزوں کا اضافہ بھی ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔
ترجمۂ بالا کی خصوصیات:
راقم پہلے ہی ذکر کرچکا ہے کہ یہ ترجمہ قاضی صاحب کے ترجمہ کا ایک طرح سے چربہ ہے اس لئے جو خصوصیات قاضی صاحب کے ترجمہ میں ہیں وہ لامحالہ اس میں بھی ہوں گی لہذا ان کا اعادہ بے سود ہے اس لیے ذیل میں صرف ان خصوصیات کو سپرد قرطاس کیا جائے گا تو جو خاص طور پر صرف اس ترجمہ میں مذکور ہیں۔
(الف )اس ترجمہ کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قرآنی آیات و احادیث کے حوالہ جات ذکر کئے گئے ہیں ، قرآنی آیات کے حوالہ میں سور ہ کانام ذکر کیا گیا ہے اور احادیث کے حوالہ میں کتب حدیث کا ذکر کے راوی کا نام بھی ذکر کردیا گیا ہے اور بعض احادیث پر حوالہ کے ساتھ حدیث کے مرتبہ کا بھی تعین کیا گیا ہے ۔
(ب)حاشیہ میں بعض مکتوب الیہم کے احوال بھی مذکور ہیں،جن سے مکتوب الیہم کی شخصیت کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔اگر چہ مترجم نے سہل انگاری سے کام لیتے ہوئے تمام مکتوب الیہم کے احوال ذکر نہیں کئے ہیں اگر تمام مکتوب الیہم کے احوال ذکر کردیتے تو یقینا اس ترجمہ کی اہمیت اور دو بالا ہو جاتی ۔
(ج)مکتوب کے اندر جن بزرگوں کا ذکر آیا ہے ان کا مختصر تذکرہ حاشیہ میں کردیا ہے جس سے ان بزرگوں کے احوال سے معمولی سی واقفیت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔
(د)مکتوبات میںموجود عربی وفارسی اشعار کا ترجمہ نثر میں ہے اور سلیس وسادہ زبان میں ہے اس سے قبل تمام اشعار کا ترجمہ نثری صورت میں منصہ شہود پر نہیں آیا تھا ، سعیداحمد صاحب نے پہلی بار مکتوبات کے تمام اشعار کا خواہ فارسی کے ہوں یا عربی کے سہل اور شیریں اسلوب میں کیا ۔
(ھ)اس ترجمہ میں مفید حواشی بھی مذکور ہیں ، مترجم نے ان حواشی میں بعض پیچیدہ مسائل کی تشریح بھی کی ہے ، لیکن اکثر مقامات پر ان حواشی کی مدد سے اپنے محصور اور مخصوص عقیدہ کی تشریح کی کوشش کی ہے اور جہاں مکتوب کی عبارت سے ان کے عقائد پر ضرب لگتی نظر آتی ہے ا س کی بیجا تاویل کی ہے اس لئے اکثر حواشی کوئی خاص افادیت کے حامل نہیں ہیں مثلا مکتوب نمبر ۱۰۷ میں مجدد ؒ فرماتے ہیں:
’’لوگ یہ خیال کرتے ہیں ولی کے لئے احیاء جسم ضروری ہے اور اس پر اکثر اشیاء غیبی کا انکشاف ہونا چاہئے ، حالانکہ یہ باتیں ظنون فاسدہ میں سے ہیںاور بعض گمان گناہ ہیں‘‘(۹)
اس پر حاشیہ آرائی کرتے ہوئے مترجم فرماتے ہیں:
’’یعنی ولی کے ولی بننے کے لئے مردے کا زندہ کرنا اور غیب کی خبریں دینا وغیرہ کوئی شرط نہیں کہ اگر یہ افعال اس سے صادر نہ ہوں تو وہ ولی ہی نہ ہو۔ امام ربانی کے ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ولی مردے زندہ نہیں کرسکتا اور غیب کی باتیں نہیں جانتا ،کیونکہ مکتوبات شریف میں آپ نے ایک دوسرے مقام پر تصریح کی ہے کہ اللہ تعالی اولیاء کو ان چیزوں کی طاقت وقدرت بھی عطا کرتا ہے‘‘(۱۰)
اس قسم کی اور مقامات پر بھی بیجا تاویلات کی ہیں جن کی چنداں حاجت نہیں تھی ۔
یہ ترجمہ پہلی بار مدینہ پبلشنگ کراچی سے ۹ ؍حصوں میں شایع ہوا، مترجم علاّم نے مولانا نور احمد امرتسری کے مطبوعہ نسخے کو سامنے رکھا، جس طرح مولانا نور احمد امرتسری نے مکتوبات کے تینوں دفتر کو ۹ حصوں میں تقسیم کیا اسی طرح مترجم نے بھی اسی ترتیب کو باقی رکھتے ہوئے اپنے ترجمہ کو ۹ حصوں میں تقسیم کیا ، اس کا پہلا حصہ اپریل ۱۹۷۰ء میں طبع ہوا اور آخری حصہ جولائی۱۹۷۲ء میں منظر عام پر آیا ۔ اور اس کے بعد ہندوپاک کے مختلف مطابع سے یہ کل ۹؍ حصے ۳ ؍ جلدوں میں شایع ہوئے اور یہی ترجمہ دور حاضر میں زیادہ رائج ہے۔
(۳)ترجمۂ سید زوار حسین شاہ: اردو تراجم میں سب سے سلیس اور با محاورہ ترجمہ سید زوار حسین شاہ کا ہے ۔ یہ ترجمہ موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرنے والا اور افادیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ، اس ترجمہ میں جدید تحقیقی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجمہ نگاری کی کوشش کی گئی ہے اور زبان کو بھی سلیس اور بامحاورہ بنا یا گیا ہے جس کی بنا پر یہ ترجمہ زیادہ عام فہم اور قابل استفادہ ہے ، اس ترجمہ کے تحریر میں آنے کی روداد کچھ یوں ہے کہ ادارۂ مجددیہ کے مالک جناب محمد اعلیٰ قریشی سے کئی علماء نے درخواست کی کہ آپ مکتوبات کا ترجمہ کریں کیونکہ موصوف، زوار حسین صاحب کے اخص الخاص شاگردوں میں سے تھے اور ان کے ظاہری وباطنی علوم کے وارث تھے اور ایک مطبع کے مالک بھی ۔ آخر کار جب محمد اعلیٰ قریشی نے علماء اور محبان مجددؒکی گذارشات کی بنا پر ایک نئے ترجمہ کو منصہ شہود پر لانے کا عزم مصمم کیا تو بجائے اس کے کہ خودمکمل ترجمہ از آغاز تا اختتام کرتے انھوں نے بہتر سمجھا کہ شاہ صاحب نے جو سو مکتوبات کا ترجمہ کیا ہے اس کو من وعن اس نئے ترجمہ میں شامل کرلیا جائے ( شاہ صاحب نے ابتدائی سو مکتوبات کا ترجمہ کیا تھا اس کے بعد اس کو ترک کرکے مکتوبات معصومیہ کے ترجمہ کی طرف توجہ مبذول کی اس خیال سے کہ مکتوبات معصومیہ کا ترجمہ پر کسی نے اپنے اشہب قلم کی جولانی نہیں دکھائی ہے جب کہ مکتوبات امام ربانی کے ترجمہ کسی نہ کسی صورت میں منظر عام پر آچکے ہیں) اس کے علاوہ شاہ صاحب کی تالیف کردہ کتاب ’’ حضرت مجدد الف ثانیؒ‘‘ میں جا بجا مکتوبات کے اقتباسات کے ترجمہ بھی موجود تھے چنانچہ ان بکھرے ہوئے ترجموں کو یکجا کرنا شروع کیااور اسی اثناء میں ڈاکٹر حافظ محمد عادل صاحب سہارنپوری نے سو مکتوبات اور کتاب’’ حضرت مجدد الف ثانی‘‘ میں موجود مکتوبات کے ترجمہ کے علاوہ بقیہ اجزاء کے ترجمہ کی ذمہ داری لے لی۔ اس طرح ایک جدید ترجمہ منظر عام پر آیا جس میں ترجمہ کا زیادہ تر حصہ اور تشریح وتعلیقات نیز مکتوب الیہم اور دیگر بزرگوں کے تذکرے وغیر ہ حضرت شاہ صاحب ؒ کی کتاب سے استنباط کیا گیا ہے ۔ اور جن مکتوبات کا ترجمہ اور ضروری حواشی وتعلیقات کا مواد موجود نہیں تھا اس کو بحسن خوبی ڈاکٹر محمد عادل صاحب نے تکمیل کے مرحلہ سے گذارا ، چونکہ ترجمہ کا اکثر حصہ سو مکتوبات کے علاوہ شاہ صاحب کی کتاب سے ماخوذ ہے ۔ اس لئے اس ترجمہ کو شاہ صاحب کے نام نامی سے منسوب کرکے شایع کیا گیا ۔ یہ ترجمہ پہلی بار ادارہ ٔ مجددیہ ،۵؍۲ ایچ ، ناظم آباد ،کراچی سے ماہ صفر ۱۴۰۹ھ مطابق ۱۹۸۸ ء سے ڈا کٹر غلام مصطفی خاں کے تعارف اور محمد اعلیٰ قریشی کے پیش لفظ کے ساتھ شایع ہوا ۔ اس ترجمہ کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(الف) مکتوب الیہم کا تعارف: مکتوبات میں جتنے مکتوب الیہم ہیں سب کے حالات بیان کئے گئے ہیں ، حالات کے ذکر کا منہج یہ ہے کہ پہلی بار جب کسی مکتوب الیہ کا نام آتا ہے تو ذیلی حاشیہ میں ان کا مختصرتذکرہ پیش کردیا گیا تاکہ مکتوب الیہ کی قدر ومنزلت سے شناسائی حاصل ہوسکے اور ان کا ایک اجمالی خاکہ ذہن کے پردوں پر مرتسم ہوسکے، اس کے بعد ان کے نام کے مکتوبات کہاں کہاں ہیں اس کو بھی دفتر نمبر اور مکتوب نمبر کے ساتھ رقم کردیا گیا ہے ، پھر آئندہ اگر کوئی مکتوب ان کے نام کا آتا ہے تو عام طور پر جس مکتوب کے تحت ان کا تعارف پیش کیا گیا ہے اس مکتوب کا نمبر مع دفتر ذکر کردیا جاتا تاکہ قاری اس مکتوب سے رجوع کرکے ان کے حالات سے واقف ہوسکے۔ اور اگر کسی مکتوب الیہ کے حالات پردہ ٔ خفا میں ہیں اور مترجم کی دسترس سے باہر ہیں تو اس کا بھی ذکر کردیا گیا ہے۔
(ب) مکتوب کے اندر جن بزرگوں کا ذکر آیا ہے ان کا بھی مختصر تعارف فٹ نوٹ میں دے دیا ہے تاکہ ان کی شخصیت سے جزوی واقفیت حاصل ہوسکے۔
(ج) آیات کریمہ کا حوالہ آیات سے متصل ہی سورت کے نام ، نمبر اور آیت نمبر کے ذکر کرکے دے دیا گیا ہے ساتھ ساتھ اس آیت کا ترجمہ بھی تحریر کیا گیا ہے۔
(د) اگر کسی عبارت میں کسی آیت کی طرف اشارہ ہے تو اس کی بھی نشاندہی فٹ نوٹ میں کی گئی ہے۔
(ھ) اگر مکتوبات میں کسی مقام پر احادیث شریفہ موجود ہیں تو ان کی تخریج کا اہتما م کیا گیا اور اس سلسلے میں تنشید المبانی فی تخریج الاحادیث اور مولانا نور احمد کے حواشی سے بھی استفادہ کیا گیا ہے ۔
(و) اگر کسی عبارت میں احادیث کی طرف اشارہ ہے تو اس حدیث کو فٹ نوٹ میں ذکر کرکے واضح کردیا گیا ہے کہ اس عبارت میں اس حدیث کی طرف اشارہ ہے۔
(ز) صوفیانہ اصطلاحات کی حاشیہ میں مکمل وضاحت کی گئی ہے اور بسا اوقات اصطلاحات فہمی کے لئے دیگر کتب تصوف سے استفادہ کرکے ان کی عبارات کو حوالہ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
(ح) مشکل الفاظ اور جملوں کی تشریح کبھی بین القوسین میں کردی گئی ہے اور کبھی حاشیہ میں اس کی توضیح کردی گئی ۔
(ط) اگر کسی مکتوب میں کوئی مضمون اختصار کے ساتھ آیا ہے اور کسی اور مقام پر وہی مضمون تفصیل کے ساتھ آیا ہے توجس مکتوب میں مضمون تفصیلی طور پر آیا ہے اس کا حوالہ دفتر نمبر اور مکتوب نمبر کے ساتھ ذکر کردیا گیا ہے۔
(ی) اگرکسی عبارت کا مفہوم طوالت کی وجہ سے یا مشکل تعبیرات کے استعمال کی وجہ سے محض ترجمہ سے واضح نہیں ہوپا رہاہے تو اس عبارت کی تشریح فٹ نوٹ میں آسان اور سہل اسلوب میں کردی گئی ہے ۔
(ک) قاری کی آسانی کی خاطرتعلیقات کے طور پر اہم مقامات میں ذیلی عناوین قائم کردیے گئے ہیں تاکہ قاری کو عبارت کی قرأت سے قبل ہی سمجھ میں آجائے کہ اس نئے پیرا گراف میں کس مضمون کو بیان کیا گیا ہے ۔
(ل) اشعار کا ترجمہ اشعار میں ہی کیا گیا ہے ۔
(م) ترجمہ کے دوران سلاست پیدا کرنے اور ربط قائم کرنے کے لئے کچھ ایسے الفاظ کا اضافہ بین قوسین میں کیا گیا ہے جن کے لئے متن میں کوئی لفظ نہیں ہے لیکن ان کا ذکر کرنا ناگزیر ہوتا ہے اور یقینا یہی اضافہ ترجمہ کی سلاست کی بقا کا سبب ہوتا ہے ۔
(ن) ہر صفحہ کی پیشانی پر’’ دفتر اور مکتوب نمبر ‘‘ ذکر کیا گیا ہے ، جس سے مکتوب کو تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔
(س) جو مکتوبات عربی زبان میں ہیں ان کی پیشانی پر لفظ ’’عربی‘‘ تحریر کردیا گیا ہے تاکہ اس بات کا علم ہوسکے کہ اس مکتوب کی عبارت عربی زبان میں ہے اور جو مکتوب عربی وفارسی دونوں زبانوں میں ہیں ان کی پیشانی پر ’’ عربی وفارسی‘‘ رقم کردیا گیا ہے ۔
(ع) ہر مکتوب کے شروع میں مکتوب کا نمبر ہندسوں کے علاوہ لفظوں میں بھی دے دیا ہے ۔
(ف) اوقاف ورموز کو استعمال کیا گیا ہے جس سے عبارت میں تعقید پید انہیں ہوتی ہے اور جملوں میں تفکیک کرنے میں آسانی ہوتی ہے ۔
(ص) پیراگرافنگ کے اصولوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے، مکتوبات کے فارسی متن میں اس قسم کی پیراگرافنگ نہیں ہے لیکن اس ترجمہ میں پیراگرافنگ کرکے ہر مکتوب میں موجود تمام مضامین ، اس کے اندر موجود الگ الگ نکات اور اس کے متفرق پہلؤوں کو الگ الگ کردیا ہے جس سے مکتوب فہمی میں آسانی پیدا ہوتی ہے ۔
(ق) کتاب کے آخر میں اشاریہ سازی فنی رعایت سے ترتیب دی گئی ہے، جس سے مکتوبات میں حسب منشا چیزوں کو تلاش کرنا نہایت آسان ہوجا تا ہے ۔اشاریہ کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
آیات قرآنی ، احادیث مبارکہ ، عبادات ، مقولے ، مصطلحات ، اسماء الرجال ، اسماء الاشیاء ،اسماء الکتب ،اسماء البلاد اور سنہ ماہ ۔
ان خصوصیات کے پیش نظر یہ بات بلا تردید کہی جاسکتی ہے کہ یہ ترجمہ دور حاضر میں مکتوبات فہمی میں سب سے معین ومددگار ہے۔
(۴)ترجمۂ نذیر اھمد رانجھا:مکتوبات امام ربانی کا ایک کامل ترجمہ جدید قالب میں’’ ڈاکٹر نذیر احمد رانجھا‘‘ نے کیا،یہ ترجمہ دو ضخیم جلدوں میں خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ ، کندیاں ضلع میانوالی سے ۲۰۱۵ م میں شایع ہوا ،جب کہ اس کے تقسیم کار دار الکتاب ، غزنی اسٹیٹ ، اردو بازار ، لاہور ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ ترجمہ اپنے پیر ومرشدحضرت خواجہ خلیل احمد صاحب کے حکم پر ایک جدید انداز میں کیا۔ اس ترجمہ کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:
(الف) اس ترجمہ کی اہم خصوصیت اس کی سلاست اور اس کی آسان اور سہل زبان ہے ، اس ترجمہ کا اسلوب نگارش نہایت شستہ ورفتہ، سلیس ودل نشیں ہے جس کی بنا پر یہ ترجمہ نہ صرف تصوف کا خزینہ بنا بلکہ اردو ادب کا عطر بھی بن گیا ۔
(ب) مکتوبات میں آنے والی آیات واحادیث کی تخریج کی گئی ہے ۔
(ج) مکتوبات میں ضروری مقامات پر حواشی و تعلیقات کا اضافہ کیا گیا ہے۔
(د) مکتوب الیہم کے تعارف اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
(ر) مکتوبات میں موجود شخصیات کاتعارف بھی قلم بند کیا گیا ہے۔
مکتوبات کے ناقص اردو تراجم
اس سے قبل ان تراجم کا ذکر تھا جو مکمل مکتوبات کے تراجم ہیں اب ذیل میں ان تراجم پر روشنی ڈالی جائیگی جو مکمل مکتوبات کے تراجم نہیں ہیں ۔
(۱)مکتوبات امام ربانی اردو با تشریح اصلاحات ۔ یہ ترجمہ پروفیسر مولانا عبد الرحیم کلاچوی ، پروفیسر اسلامیہ کالج پشاور ، اسسٹنٹ ایڈیٹر معاون اخبار وکیل ، امرتسر کا ہے یہ ترجمہ خواجہ باقی باللہ کے نام کے مکتوبات کو چھوڑ کر اگلے سترہ مکتوبات کا ہے جو بیگم ہمایوں ٹرسٹ ( رجسٹرڈ ) لاہور سے ۱۳۳۰ ق ؍ ۱۹۱۲ء کو شایع ہوا ۔ اس میں ترجمہ سے قبل حضرت مجدد ؒ کی سوانح عمری کو بھی ذکر کیا گیا ہے ، اس ترجمہ کا آغاز مکتوب نمبر ایک سے ہوا ہے، اس کے بعد درمیان کے وہ اکیس مکتوبات جو حضرت مجدد ؒ نے اپنے شیخ کو ارسال کئے تھے، ان کا ترجمہ حذف کرکے مکتوب ۲۲ سے ترجمہ کیا ہے ۔ اس ترجمہ کی خصوصیات حسب ذیل ہیں:
(۱لف) ترجمہ نہایت سلیس اور بامحاورہ کیا گیا ہے ، متن کے الفاظ کی بندش کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے ، لیکن مفہوم میں کسی قسم کا تصرف نہیں کیا گیا ہے اگر کسی موقع پر کسی فقرہ کا اضافہ کیا گیا ہے تو اس کو خطوط وحدانی کے اند ر لکھا گیا ہے ۔
(ب) تو ضیح مطالب کے لئے جا بجا مدلل اور ضروری حواشی تحریر میں لائے گئے ہیں ۔
(ج) اصل متن میں ابتداء وہ عرائض درج ہیں جو مجدد صاحبؒ نے اپنے پیر کی خدمت میں لکھے تھے مترجم نے ان کو یہاں سے حذف کرکے ان کے بجائے اما م صاحب کا مختصر تعارف ذکرکردیا ہے ۔
(د) ابتدائی مکتوبات کے حذف کی وجہ سے مکتوب نمبر میں فرق آنا لازمی امر تھا لیکن مترجم نے یہاں پر اپنی وسعت ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر مکتوب کے شروع میں دو نمبر دیے ہیں ایک لفظوں میں دوسرا ہندسوں میں ۔ لفظوںمیں ترجمہ میں درج شدہ مکتوبات کا ترتیب وار نمبر ذکر گیا ہے جب کہ ہندسوں میں خطوط وحدانی کے اندر فارسی مکتوبات کا اصل نمبر دیا گیا ہے۔جس سے مکتوب کی ترتیب پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے۔
(۲) انوار ر حمانی:یہ ابتدائی ۴۰ مکتوبات کا ترجمہ ہے ۔جو حکیم مولوی محمد حسین تاجر کتب کشمیری بازار،لاہور کے قلم سے وجود میں آیا اور مطبع اسلامی لاہورسے ۱۳۳۰ ق ؍ ۱۹۱۲ ء کو شایع ہوا ۔اس ترجمہ کے سر ورق پر نام ’’انوار رحمانی‘‘ ہے جب کہ دیباچہ میں اس ترجمہ کا نام ’’گنجینۂ انوار رحمانی‘‘ مذکور ہے ۔ اس ترجمہ کے شروع کے دو صفحات میں مختصر فہرست ہے جس کی ہیڈنگ یوں ہے’’مختصر فہرست کتاب مستطاب گنجینۂ انوار رحمانی ترجمہ مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی‘‘ اس کے بعد دو صفحات میں دیباچۂ از مترجم ہے اور اسی دیباچہ میں’’ دیباچہ از جامع کتاب‘‘ کا بھی ترجمہ ہے۔ اس ترجمہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں:
(الف) اس ترجمہ میں حتی المقدور لفظی ترجمہ کی رعایت کی گئی ہے ۔ اور جن مقامات پر حضرت مجددؒ نے اپنے اپر طاری ہونے والی کیفیات کا ذکرکیا ہے ان کو اسی لفظ میں باقی رکھ کر خط وحدانی میں ان کا ترجمہ کیا گیا ہے ۔
(ب) جن مقامات پر صوفیانہ مضامین کو ادا کرنے میں لفظی ترجمہ مانع ہوتا ہے ان مقامات پر آزاد ترجمہ بھی کیا گیا ہے ، لیکن الفاظ اور معانی میں ربط برقرار رکھنے کی اس وقت بھی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے۔
(ج) اس ترجمہ میں سائد میں حواشی بھی ہیں جن میں دوران متن آنے والے ناموں کے حالات بھی ذکر کئے ہیں اور تصوف کی ادق ترین تعبیرات کی تشریح بھی ہے ۔
(د) اس ترجمہ میں بعض مقامات پر حضرت مجددؒ کے کلام کی تائید میں آیات کریمہ اور احادیث شریفہ نقل کی گئی ہیں۔
(۳)الطاف رحمانی:یہ بھی ابتدائی بیس مکتوبات کا ترجمہ ہے، یہ ترجمہ بھی لفظی ہے،اس میں مکتوب نمبر اور عنوان جلی حروف میں ہے، اس میں فارسی متن کا خط تھوڑا موٹا ہے اور بین السطور متن کے مقابلے میں تھوڑے سے باریک خط میں ترجمہ ہے جس طرح قدیم قرآن مجید کے ترجمہ میں اہتمام کیا جاتا تھا۔ غالباً اسی وجہ سے اس کو ’’ پارۂ اول الطاف رحمانی‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس کو محمد حسین بن قادر بخش ساکن احمد آباد ضلع جہلم نے تحریر کیاتھا اور مطبع نامی منشی فخر الدین لاہور سے ۱۳۱۴ ق ؍ ۱۸۹۶ ء کو شایع ہوا۔اس میں کل ۹۳ صفحات ہیں، خاتمہ طبع کے طور پر عبارت درج ہے:
الحمد للہ رب العالمین کہ باتمام انجامید پارۂ اول الطاف رحمانی ترجمہ مکتوبات امام ربانی در شھر ربیع الثانی ۱۳۱۴ ھ قطع تاریخ طبع کتاب ھذا از طبع لطیف جناب مترجم مدظلہ:
حصہ اولین زمکتوبات طبع گشتہ ز فضل رب امام
فی البدیہ چنین بگفت حسین حال او جلد مظہر الاسلام ۱۳۱۴
(۴) مکتوبات شریفہ (ترجمہ )از مکتوبات امام ربانیؒ : مکتوبات کا یہ ترجمہ مع حواشی آ ستانہ عالیہ حبیبیہ گجرات سے صفر ۱۴۲۵ ھ میں شایع ہوا ۔ اور اب تک اس کی چار جلدیں شایع ہوچکی ہیں ، پہلی جلد میں دفتر اول کے چالیس مکتوبات ہیں ۔ دوسری جلد ۴۱ ؍ سے لے کر ۱۲۲ ؍ تک کے مکتوبات پر مشتمل ہے تیسری جلد میں ۱۲۳ سے ۲۲۰ ؍ تک کے مکتوبات موجود ہیں ۔ چوتھی جلد ۲۲۱ سے ۲۶۸ تک کے مکتوبات کو محتوی ہے ۔ یہ کوئی جدید ترجمہ نہیں ہے بلکہ سید زوار حسین صاحب کا ہی ترجمہ ہے لیکن اس ایڈیشن میں اول مولانا نور احمد رحمۃ اللہ علیہ پسروی کا تصحیح و تحقیق شدہ فارسی متن مع حواشی ہے جو مطبع مجددی سے امرتسر سے ۱۳۲۷ھ میں شایع ہو اتھا اس کے بعد سید زوار صاحب کا ترجمہ ہے اور ترجمہ کے ساتھ ہی اس کے حواشی میں مکتوب کے فارسی متن میں جو حواشی اور بین السطور عبار ت ہے اس کا ترجمہ بھی ذکر کیا گیا ہے پہلے حواشی کا ترجمہ ہے اور اس کے معًا بعد اس صفحہ کے بین السطور میں جو معانی ذکر کئے گئے ہیں ان کا ترجمہ ہے اور جس مکتوب کے فارسی متن کا حاشیہ ہے اس کا صفحہ نمبر بھی درج کردیا گیا ہے تاکہ فارسی متن کی طرف رجوع آسان ہو۔ حواشی اور بین السطور عبارت کا ترجمہ صوفی محمد علی نقشبندی اور حافظ محمد اشرف مجددی نے کیا ہے ترجمہ کے بعد آخرمیں تین ابواب کے تحت احادیث کی تخریج ہے جو ڈاکٹر بابر بیگ مطالی کے مقالہ سے ماخوذ ہے۔ تینوں ابواب کے عنوان کچھ یوں ہیں باب اول : احادیث ۔ باب دوم : آثار صحابہ ۔ باب سوم : حضرت مجدد علیہ الرحمۃ کے وہ اقوال جنکا مفہوم احادیث سے ماخوذ ہے۔ پھر ہر باب کو دو فصل میں تقسیم کیا ہے ۔ ہر باب کی فصل اول کے تحت جو احادیث ، آثار اور اقوال عربی میںہیں وہ درج ہیں۔ اور فصل ثانی میں جواحادیث ، آثار صحابہ اور اقوال فارسی عبارت میں ذکر کئے گئے ہیں ان کو تحریر کیا گیا ہے ۔
: مکتوبات کے اردو ملخصات
(۱)در لاثانی: یہ مکتوبات امام ربانی ؒ کے تینوں دفاتر کا خلاصہ ہے ، مکتوبات کی یہ تلخیص حضرت مولانا شاہ ہدایت علی نقشبندی مجددی ؒ کے اشہب قلم سے وجود میں آئی۔ اس خلاصہ میں ہر مکتوب کا اسی قدر بامحاورہ اردو ترجمہ کیا گیاہے جس سے عام لوگ مکتوبات کے فیضان سے مشرف ہوسکیں اور عقائد حقہ ، اصول اسلام اور ایمان حقیقی کے حصول میں جس سے استفادہ کرسکیں۔ بہت کم مکتوبات ایسے ہیں جن کا کامل اردو ترجمہ کیا گیا ہے ۔اور جن مکتوبات کے بعد کچھ تشریح کی ضرورت تھی تو ’’ آگاھی‘‘ کے عنوان سے اسکی وضاحت پیش کردی ، اور جلد دوم وسوم میں مکتوبات کے آغاز سے قبل’’ ضروری شرح اصطلاحات نقشبندیہ مجددیہ ‘‘ کے عنوان سے چند اصطلاحات ذکر کی گئی ہیں تاکہ مکتوب فہمی میں آسانی ہوسکے لیکن ان اصطلاحات کی شرح اتنے مختصر اور اجمالی انداز میں کی گئی ہے کہ فن سلوک کے ابتدائی طالب علم کے لئے اس کو سمجھنا خود مشکل ہے چہ جائیکہ وہ اس کے ذریعہ مکتوب میں موجود ان اصطلاحی عبارتوں کو سمجھ سکے ۔مولانا ہدایت علی صاحب دیباچہ جلد دوم میں مکتوبات کے خلاصہ کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’میں عرصہ سے دیکھ رہا ہوں کہ اکثر اہل علم ،علم تصوف کے شائق اور دل داہ اس بات کے شاکی ہیں کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات جو جامع شریعت وطریقت اور حقیقت ومعرفت ہیںاور علم تصوف اور معارف جدید کے بحر ذخار ہیں ان کو پڑھ کر فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن ادق فارسی اور اصطلاحات تصوف قدیم وجدید کی وجہ سے معارف عجیب وغریب کے سمجھنے سے مجبور ہیں اور اس نعمت غیر مترقبہ کے حصول سے محروم ہیں اور بعض بوجہ عدیم الفرصتی پورے مضامین پڑھنے یا سننے سے معذور ہیں ،ان وجوہات متذکرہ بالا کی وجہ سے دل میں خیال آیا کہ مجدد صدی کے کلام اور صحبت سے اکثر طلباء مستفیض ہوتے رہتے ہیں لیکن اب مجدد الف کے فیضان کلام سے محروم ہیں۔ اس لئے تجھ کو مکتوبات شریف کا خلاصہ سیدھی سادھی بامحاورہ اردو میں کرنا چاہئے تاکہ برادران طریقت اس سے فائدہ اٹھائیں اور تیرے لئے دعاء مغفرت کریں ۔
لہذا میں نے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات کے تینوں دفاتر کا خلاصہ بزبان اردو کردیا ہے اور جن مکتوبات میں جو مقامات باوجود اردو کردینے کے بھی قابل شرح تھے تو ان مکتوبات کے آخر پر لفظ ’’ آگاھی ‘‘ لکھ کر اپنی سمجھ اور حیثیت کے موافق شرح کردی ہے اور مکتوبات کے شروع کردینے سے پہلے اصطلاحات حضرات نقشبندیہ مجددیہ بھی لکھ دی ہیں ،مہربانی فرماکر پہلے ان اصطلاحات کا ملاحظہ فرمائیں اور ان چند مصطلحات کو ذہن نشین فرماکر پھر مکتوبات شریف پڑھیں ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ مضمون اور مطلب مکتوب خوب سمجھ میں آجائے گا ‘‘ ۔(۱۱)
اس خلاصہ کا ایڈیشن پہلی بار۱۳۵۷ھ ؍۱۹۳۹ء میں درلاثانی کے نام سے معارف پریس اعظم سے طبع ہوا ۔ ۱۹۶۱ء میں اعلیٰ کتب خانہ کراچی نے ’’ انتخاب مکتوبات ‘‘کے نام سے اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا، جبکہ اس کا تیسرا ایڈیشن ۱۹۷۶ء میںمکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور نے ’’ خلاصہ مکتوبات امام ربانی‘‘کے نام سے چھاپا۔ قریب زمانہ میں الھدایہ اسلامک ریسرچ سنٹر، جامعۃ الھدایہ ، جے پورسے کمپوز شدہ ایڈیشن’’ درلاثانی ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے اور یہی ایڈیشن اب متداول ہے ۔
(۲)۱تجلیات امام ربانی: یہ امام ربانی حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات کے تینوں دفتروں کی تلخیص اور ترجمہ ہے جس کو مولانا نسیم احمد فریدی امروہی نے بڑی سلیس اور بلیغ زبان میں کیا ہے ۔ یہ تلخیص دو جلدوں میں لکھنؤ اور لاہور سے متعدد بار شایع ہوئی ۔ اس ترجمہ کو نسیم احمد صاحب نے ستمبر ۱۹۵۹ ء ؍ صفر ۱۳۷۹ ھ سے قسط وار ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ میں شایع کرانا شروع کیا اور آ خر کار فروری ۱۹۶۵ ء ؍ رمضان المبارک ۱۳۸۴ ھ میں ۳۷ قسطوں میں یہ تلخیص شدہ ترجمہ پایہ تکمیل کو پہونچااور پھر دس سال کے بعد ۱۹۷۵ء میں اشاعت کے مرحلہ سے گذرا ۔ترجمہ کے آغاز میں نسیم فریدی صاحب نے ایک وقیع اور مبسوط مقدمہ لکھا جس میں حضرت مجدد ؒ کی سوانح عمری ، اولاد ، خلفاء ، تالیفات ، مکاتیب شریفہ اور آخری وقت کے حالات ذکر کئے ، اس کے بعد مکتوبات کی اہمیت اور اس پر وارد ہونے والے شکوک واعتراضات اور ان کے مدلل جوابات ذکر کئے ہیں۔یہ تفصیلی مقدمہ جہاں ایک طرف حضرت مجدد ؒ کی حالات زندگی سے واقف کراتا ہے وہیں مکتوبات کی اہمیت اور اسکے خلاف کی جانے والی ریشہ دوانیوں سے متعارف کراتا ہے۔ اس ملخص ترجمہ کا آغاز جلد اول کے مکتوب ۲۳؍ سے ہوا اور ان مکتوبات سے تعرض نہیں کیا ہے جو مجدد ؒ نے اپنے پیر خواجہ باقی باللہ کو تحریر فرمائے تھے ۔ اس ملخص ترجمہ کی مندرجہ ذیل خصوصیات ہیں :
(الف) اس ترجمہ کا اسلوب نگارش نہایت اعلی ادبی مقام پر فائز ہے اس ترجمہ میں زبان انتہائی شستہ اور بلیغ استعمال کی گئی ہے ، فصاحت کا ایک دریا ہے جو بہتا ہوا نظر آتا ہے ، سلاست ایسی کہ قاری دوران قرأ ت کہیں اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا اور نہ دوران مطالعہ اس کے خالص ترجمہ ہونے کا احساس ہوتا ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود تصوف کی ایک مستقل بالذات کتا ب پڑھ رہا ہے ۔
(ب) مکتوب الیہم کے حالات فٹ نوٹ میں ذکر کئے گئے ہیں اور جس کتاب سے یہ حالات اخذ کئے گئے ہیں ان کتابوں کے حوالہ بھی ذکر کئے گئے ہیں۔
(ج) جو مکاتیب عربی میں ہیں ان کو بین القوسین ’’بزبان عربی‘‘ ذکر کردیا گیا ہے ۔
(د) صرف ان مکاتیب کا ترجمہ کیا گیا ہے جن میں تصوف کی ادق اصطلاحات اور عوام الناس کے فہم سے بالاتر مسائل نہیں تھے ورنہ جن مکتوبات میں تصوف کے دقیق ترین مسائل کا ذکر ہے یاجن میں وہ کلامی مباحث ہیں جس کو سمجھنے کے لئے علم غزیر درکار ہوتا ہے ان مکتوبات کے ترجمہ سے تعرض نہیں کیا گیا ہے ۔
(ھ) جن مکتوبات کا ترجمہ کیا گیاہے ان میں بھی ضروری اور عام فہم عبارت کا ہی ترجمہ کیا گیا ہے لیکن اس چابکدستی سے عبارتوں کو حذف کرکے ترجمہ کیا ہے کہ اگر متن سامنے نہ ہو تو پڑھنے والا سمجھ ہی نہ پائے کہ عبارات کو حذف کرکے ترجمہ کیا گیا ہے۔
(و) اگر کوئی لفظ ترجمہ میں سلاست کو باقی رکھنے کے لئے مشکل اردو کا استعمال کیا گیا ہے توحاشیہ میں اس کے معنی ذکر کر دئے گئے ہیں ، جیسے مکتوب ۲۴ دفتر اول میں ایک جگہ رقم ہے:
’’جب یہ محبت جس کو محبت ذاتیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حاصل ہوگئی تو محب کے نزدیک انعام محبوب اور ایلام محبوب دونوں مساوی ہوگئے‘‘
یہاں ’’انعام‘‘ کی رعایت کرتے ہوئے ’’ایلام‘‘ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے لیکن اس لفظ کا استعمال اردو میں رائج نہیں ہے اس لئے اس کے معنی حاشیہ میں ذکر کردیے ’’ تکلیف دینا‘‘۔ (۱۲)
الغرض مکتوبات کی یہ تلخیص’’تجلیات امام ربانی‘‘ اپنی ان انفرادی خصوصیات کی بناپر آج بھی علمی حلقوں میں کافی مقبول ہے اور مکتوبات کے پیغام سے لوگوں کے قلب ونظر کو مجلی ومصفی کررہی ہے۔
’’ مکتوبات امام ربانی‘‘ کے یہ وہ تراجم وملخصات ہیں جن تک بندہ کی رسائی ہوسکی ہے، ان تراجم کا مطالعہ اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ ان تراجم نے بر صغیر میں مکتوبات فہمی کے نئے دروں کو وا کیا ہے اور اس عظیم ذخیرۂ تصوف سے تشنگان علم وفن کوسیراب کرنے میں لازوال کردار ادا کیا ہے ۔
حواشی
(۱)مجدد الف ثانی ،سرھندی ، حضرت شیخ احمد فاروقی ، مکتوبات امام ربانی ، مطبع ایچ ایم سعید کمپنی ،کراچی ، پاکستان، ۱۹۷۷ء۔ دیباچہ دفتر دوم ،ص ۴۔۵۔
(۲)ایضًا ،ص ۵
(۳)ایضًا،دیباچہ دفتر سوم ،ص ۲۷۴
(۴)ایضًا،دیباچہ دفتر سوم،ص ۲۷۵
(۵)کشمی، محمد ہاشم ، خواجہ ،زبدۃ المقامات (اردو ترجمہ) ۔لاہور،مطبع نول کشور ۔ص ۲۳۲
(۶)مکتوبات امام ربانی، حاشیہ دفتر سوم ،ص ۵۸۶
(۷)عالم الدین، قاضی ،(نقشبندی)،کنز القدیم فی آثار الکریم ، مطبع حمایت اسلام ، لاہور،یکم جون ۱۹۳۷ء ؍ ۱۳۵۵ھ، ص۳۱۵۔۳۱۶
(۸)ایضاً، ص ۳۱۶
(۹)احمد، سعید، محمد (نقشبندی) ، ترجمہ مکتوبات امام ربانی ، اعتقاد پبلشنگ ہاؤس ، ۱۹۹۶ء ، ج ۱ ، ص ۲۹۷
(۱۰)ایضاً ، حاشیہ صفحہ ہذا
(۱۱)علی ، ہدایت، محمد،(نقشبندی) ، درلاثانی،الھدایہ اسلامک ریسرچ سینٹر،جے پور ،۲۰۰۵ء، ج ۲، ص۴۔۵
(۱۲)فریدی، احمد، نسیم ، تجلیا ت امام ربانی ، ادارۂ تعلیمات مجددیہ ، ۱۹۷۵ء، ج۱، ص ۴۵
2