Main Menu Top Menu

قرۃالعین حیدر کے ناولوں میں تہذیبی شکست وریخت

ڈاکٹر رشی کمار شرما

اسوسیٹ پروفیسر

جے، این، یو، نئی دہلی

 یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر زمانے کی تہذیب اور معاشرت کی عکاسی اس دور کی ادبی تخلیقات میں دیکھنے کو ملتی ہے نیز ادیب کا تعلق جس بھی طبقے یا معاشرے سے ہوتا ہے اس کی تخلیقات میں اس کی جھلک ضرور نمایاں ہوتی ہے۔ جتنے بھی شعرا اور ادبا ہوئے ہیں انھوں نے ان تہذیبوں کے عروج وزوال اور انحطاط کو بیان کر کے اپنی تہذیب اور کلچر سے قلبی لگاؤ کا اظہار کیا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ سیاست کی تبدیلی اور فسادات وغیرہ کے اثرات سماج، معاشرت، تہذیب ،کلچراور عوام کی نفسیات پر بھی پڑتے ہیں۔ اردوکے ادیبوں نے قدیم زمانے سے ہونے والی سیاسی تبدیلی اور ہندوستانی تہذیب و معاشرت پر اس کے اثرات کا گہرائی سے مطالعہ کر کے انسانی تاریخ پیش کرنے کا اہم کارنامہ انجام دیا ہے جس میں ایک اہم نمایاں نام قرۃ العین حیدر کا بھی ہے۔

قرة العین حیدر آسمان ادب پر اس ستارے کی مانند ہیں جس نے صدیوں کی تاریخ اور وقت کی رفتار کا بہت گہرائی سےمطالعہ اور مشاہد کیا ہے۔ ان کو اردو فکشن میں جو مرتبہ حاصل ہے، یقیناً اس مرتبے تک رسائی حاصل کرنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے ۔ موصوفہ کا تعلق سماج کے اشرافیہ طبقے سے رہا ہے اور ان کا خاندان ہمیشہ سے علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے جس کی وجہ سے بچپن ہی سے ہندستان کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کی تہذیبوں سے ان کی آشنائی ہو گئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ ن کے بیشتر ادبی فن پارے میں ہندوستانی تہذیب اور کلچر کی بازیافت دیکھنے کوملتی ہے۔ قرۃ العین حیدر بنیادی طور پر رومانی خاتون تھیں ۔ یہ رومان پسندی انھیں ورثے میں ملی تھی ۔ اپنے والد سجاد حیدر یلدرم کی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ان کا مزاج ایک خاص سانچے میں ڈھلتا چلا گیا اور سجاد حیدر یلدرم کی طرح وہ بھی آزادی نسواں اور جنسی مساوات کے علم بردار بن کر سامنے آئیں لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ رومانی مزاج ہونے کے باوجود انسانیت سوزی عالمی مسائل اور مٹتی ہوئی تہذیب کے دور رس بھیانک نتائج سے قرۃ العین حیدر بہت نالاں تھیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے درد ناک سانحات اور حادثات نے قرۃ العین حیدر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تاریخی شعور کی بنا پر پر ان کے احساس دل نے ان حُزنیہ واقعات کو شدت کے ساتھ محسوس کیا جو انھیں پل بھر سکون اور چین کی نیند نہیں لینے دیتے لیکن ان حالات سے پیچھے ہٹنے یا آنکھیں بند کرنے کے بجائے قرۃ العین حیدر ایک مرد مجاہد کی طرح نبرد آزما ہو کر انسانیت کی خدمت انجام دینے کی کوشش کرتی ہیں ۔

بقول غالبؔ

رنج سے خوگرہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر  پڑیں  اتنی  کہ آساں ہو گئیں

 تقسیم ہند بر صغیر کے لیے عذاب بن کر نازل ہوئی جس نے انسانی اخلاق واقدار کو پامال کیا ۔ مذہب کے نام پر انسانیت سوزی کا ننگا ناچ ناچا گیا۔ سامراجی قوتوں کی سازش کے تحت کروڑوں افراد ہجرت کر کے دیارِ غیر میں اجنبی بننے پر مجبور ہوئے ۔ اس دوران جس بربریت اور حیوانیت کا مظاہرہ کیا گیا ، برصغیر کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی ۔ اسی پُر فریب اور کرب ناک حالات میں قرۃ العین حیدر لکھنے کا آغاز کرتی ہیں اور پوری دیانت داری سے انسانی مسائل اور تہذیب و معاشرت کو موضوع بنا کر سر فہرست ادیبوں میں شامل ہو جاتی ہیں۔

سنہ 1949ءان کا پہلا ناول ” میرے بھی صنم خانے” منظر عام پر آیا جس میں تقسیم ہند سے قبل اور بعد کے ماحول کو پیش کر کے نہ صرف اودھ کے زوال پذیر معاشرے کی مٹتی قدروں کی نشاندہی کی گئی ہے بلکہ تقسیم ہند کے اسباب اور اس کے خونی منظر نا مے کو بھی بڑے وسیع اور پُر اثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس فسادات کے نتائج سے تہذیب و تمدن اور ثقافت کو کس طرح ختم کیا گیا اس کی عکاسی کرتے ہوئے” یوسف سرمست” یوں رقم طراز ہیں:

“قرۃالعین حیدر کا یہ دعویٰ حق بجانب ہے کہ انھوں نے اس ناول میں ایک عظیم انسانی ٹریجڈی کی داستان قلم بند کیا ہے ۔انھوں نے اس تہذیب کی موت کو پیش کرنے سے پہلے اس کی پوری زندگی اس کے بہترین عناصر کو ناول میں بڑے ہی سلیقے سے پیش کر دیا ہے ۔جس کی وجہ سے ناول بےحد مؤثر بن گیا ہے اور اس انسانی ٹریجڈی کو پیش کرنے میں انھیں اس قدر کامیابی حاصل ہوئی ہے،ہندوستانی تہذیب کے عناصر، اس کے اخلاق اور عادات،اس کے فنون لطیفہ اس کا معاشرتی انداز غرض اس مشترک تہذیبی ورثہ کی بنیادی اور اہم خصوصیات کو انھوں نے شعور کی ٹکنک سے کام لے کر داخلی اور خارجی دونوں انداز سے پیش کیا ہے۔”(1)

قرة العین حیدر کا دوسرا ناول “سفینۂ غم دل” سنہ1952ء میں شائع ہوا جس میں 1942ء سے 1947ء تک کے حالات کو بیان کرتے ہوئے مشتر کہ ہندوستانی تہذیب کی شکست وریخت پر ختم کیا گیا ہے۔ اس ناول کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ “آپ بیتی “کی شکل میں لکھا گیا ہے۔ اس میں بڑی خوش اسلوبی سے خاندانی زندگی کو مرکز میں رکھ کر معاشرتی نظام کے نشیب و فراز کو بیان کیا گیا ہے ۔ نیز اس میں قدیم نظریات کی شکست خوردہ دیواریں ، فرسودہ رسومات، مذہبی تو ہّمات اور سماجی سطح پر بر پا ہونے والے تغیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ چوں کہ اس ناول کا زمانی پس منظر تقسیم ہند اور آزادیِ وطن ہے، اس لیے فطری طور پر فرقہ وارانہ فسادات اور انسانی نسل کشی کو بھی موضوع بنایا گیا ہے اور ناول نگار کے ذاتی تجربات کے بیان سے واقعیت پسندی کا عنصر بھی غالب نظر آگیا ہے۔ یہ ناول اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں دورِ جدید کے تعلیم یافتہ طبقے کی ذہنی کش مکش، معاشرتی زندگی کے تلخ حقائق ، ہندو مسلم ،سکھ ، عیسائی کے مابین صدیوں باہمی تعلقات، مشترکہ تہذیبی لین دین اور مستحکم قومیت کی پاسداری وغیرہ کو بڑی صفائی سے پیش کیا گیا ہے ۔ ناول کے ایک نوجوان کردار نے مشکل اور درد ناک حالات کی صعوبتیں جھیل کر اپنی زندگی کو پُرکشش بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے قرۃ العین حید رلکھتی ہیں :

“ذرا بتلاؤ تو ! تم نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ تمھیں کتنی بار بچپن میں بھوکا رہنا پڑا۔ تم نے کن دقتوں سے تعلیم حاصل کی۔ روزگار کی تلاش میں تمھیں کیا کیا برداشت کرنا پڑا۔تمھارا کیسا گھر تھا جہاں اکثررات کو لالٹین بھی نہ جل پاتی تھی۔وہ آہستہ آہستہ کہتا رہا۔ زندگی کی سب سے بڑی مجبوری اور تکلیف افلاس ہے جس کا تم کبھی خواب میں بھی اندازہ نہیں کر سکتیں۔۔۔تم کو شاید اس بات میں بھی کوئی رومان اور گلیمر نظر آتا ہوگا کہ کس طرح میں نے افلاس اور مصائب جھیل کے اپنی قابلیت کی وجہ سے موجودہ حیثیت کو حاصل کیا ۔اور کس طرح ایک حسیت بھر کر تمھارے ڈرائنگ روم میں آن بیٹھا۔”(2)

مذکورہ بالا اقتباس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ قرۃ العین حیدرنے اشتراکی فکر و نظرکو اپنے تخلیقی شعور کا جامہ پہنا کر اس کے اثرات کو ناول کے واقعاتی ماحول میں سمونے کی کوشش کی ہے اور نو جوانوں کی یقین محکم اور عمل ہم پیہم پر پُراعتمادی کو بیان کی ہے۔

قرة العین حیدر کی اصل شناخت ان کے اہم ناول ” آگ کا دریا “سے ہوئی جس میں دریا کو وقت کی علامت کے طور پر استعمال کر کے ڈھائی ہزارسال کی طویل انسانی تاریخ اور تہذیب کوحسین پیرائے میں ڈھال کر مختلف ادوار کی سیر کرائی گئی ہے۔ہمارے ملک کو یہ شرف حاصل ہے کہ دنیا کی قدیم تہذیبوں ؛مصر، یونان اور روم کے ساتھ ہندوستانی تہذیب کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ اس ناول میں ایک ہی کردار کو مختلف ادوار میں نام کی تبدیلی کے ساتھ پیش کرنا دراصل امتداد زمانہ کی بازیافت کرنا مقصود ہے اور مختلف تہذیبوں کے عروج وزوال اور اس کے اثرات کو نمایاں کرنا ہے۔ ” آگ کا دریا “ناول لکھنے کی تحریک تقسیم ہند سے ملی لیکن تاریخی حقائق اور مختلف تہذیب سے ناول نگار کی آشنائی قابل تعریف ہے کہ ناول نگار نے تقسیم ہند کے وجوہات کو جاننے کی چاہت میں غیر شعوری طور پر ہندستان کی قدیم تہذیبوں کے عروج وزوال کو فلسفیا نہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے کہ ہم بآسانی ڈھائی ہزار کی تاریخ سے روشناس ہو جاتے ہیں۔ اس ناول کے لکھنے کا سب خود ناول نگار نے اس طرح بیان کی ہے :

“ملک کیوں تقسیم ہوا؟کیا تقسیم تاریخی حیثیت سے ناگزیر تھی ؟اس سوال نے مجھے فلسفہ وتاریخ کی طرف کھینچا۔ اس کا جواب دینے کی کوشش میں ایک ناول “آگ کا دریا”لکھا اور دریا کو زمانے کا SYMBOL بنا کر تین ہزار سال کی پھیلی ہوئی اور الجھی ہوئی ہندوستانی تاریخ میں سے ہندوستانی شخصیت کی عظمت کوگرفت میں لانے کی کوشش کی ۔”(3)

اس ناول کا نام علامتی مفہوم کا حامل ہے۔ وقت کا دریا مسلسل رواں ،دواں ہے۔ جس طرح” دریا ” بنیادی طور پر وقت کی علامت ہے اسی طرح ” آگ” وقت کی لہروں ، تیزی و تندی اور سختی کی علامت ہے۔ اس ناول میں واقعات کی ابتدا ہندوستانی تہذیب ومعاشرت کے دور قدیم سے ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ یہ ارتقا کے منازل طے کرتے ہوئے چندر گپت موریہ سے عہد جدید میں داخل ہو جاتا ہے۔ ناول کا کردار” گوتم نیلم بر “صرف کردار نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ترجمان بھی ہے۔ جنگل کی کٹیا میں رہنےوالا وتم نیلم برجدید ترقیات سے آراستہ شہروں کی سیاحت کرتا ہے اور ہوائی جہاز میں بیٹھ کر مغربی ملکوں کا سفر کرتا ہے۔ ناول نگار نے اس مرکزی کردار کی تخلیق و تشکیل میں ” عقیدۂ تناسخ “ سے استفادہ کرکے شعور کی رو ٹکنک کے ذریعے ڈھائی ہزار کی روایتی تہذیب و تاریخ پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ گوتم نیلم بر دراصل ایک بے چین روح کی مانند ہے جوسچائی ،حقیقت، عرفان، نجات اور روحانی مسرت کی جستجو کے لیےمختلف ادوار میں مضطرب اور متجسس شعور کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ اس کی سیرت میں لائق احترام تقدس بھی ہے اور انسان دوستی کا نیم فلسفیانہ جذبہ بھی ۔ ناول کے ابتدائی حصے میں چوبیس سالہ گوتم نیلم بر کے داخلی اضطراب کی کیفیت کو فلسفیانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے قرۃ العین حید رلکھتی ہیں:

“گوتم نیلم براب چوبیس سال کا ہو چکا تھا۔ اتنی مدت میں پہلے وہ سوفسطائی بنا۔ پھر اس نے شیو کی پوجا کی ہری کا بھگوت بنا۔ کپل کے نظریوں پر اس نے بسیط شر حیں لکھیں۔ اس نے اپنے ہم نام فلسفی گوتم کا مطالعہ کیا جس نے برہمنوں کے مذہب کے قوانین بنائے تھے اور وقت کے مسئلے پر سوچ بچار کیا تھا۔ ہری شنکر سے ملنے کے بعد اسے گوتم سدھارتھ سے دل چسپی پیدا ہو چلی تھی لیکن اب تک وہ اس دیس کی از لی اورابدی سوچنے اور کھوجنے والی روح تھی جو کبھی اور کسی جگہ مطمئن نہ ہوتی تھی ۔ جو برابر اس سوال کے جواب کی تلاش میں مصروف تھی کہ ہم کس طرح جانیں؟”(4)

اس ناول کے آغاز میں ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ کی دی ہوئی نظم کو “آگ کا دریا “کا خلاصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ در اصل ناول نگار نے تقسیم ہند کے نا گفتہ بہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹی۔ ایس ۔ ایلیٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ناول کی تخلیق کی ہے۔ ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ کی نظم کا یہ ٹکڑا قابل غور ہے دریا ہمارے اندر ہے۔ سمندر نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔”

یہاں “دریا “سے کون سا دریا مراد ہے جس نے ہمیں گھیر رکھا ہے؟ دراصل ہماری سوچ ، ہماری فکر، ہمارے تصورات و خیالات اور ہماری روح ہی وہ دریا ہے جو ہمارے اندر رواں اور سیّال ہے۔ یہ سانس اور روح ہماری زندگی اور تہذیب کی علامت ہے۔ وقت ایک سمندر ہے اور ہماری زندگی وقت کے سمندر میں بہتی جارہی ہے۔ آگے ٹی۔ایس۔ ایلیٹ لکھتا ہے :

’’جہاز کے بہتے ہوئے شکتہ ٹکڑوں کا خاتمہ کہاں ہے؟“

یہاں جہاز سے مراد “ایک تہذیب “ہے کہ جس طرح وقت کے سمندر میں طوفانی موجوں کے تھپیڑے کھاتی ہوئی جہاز کے شکستہ ٹکڑے کسی نہ کسی نہ کسی صورت میں قائم رہتے ہیں اسی طرح تہذیب وقت کے تقاضے کے مطابق بنتی ہے، پروان چڑھتی ہے اور آخر کا رز وال پزیر ہو جاتی ہے یا اس کے پریشان اجزا کسی دوسری تہذیب میں مدغم ہو جاتے ہیں اور اسی طرح وقت کے سمندر میں نئی اور پرانی تہذ یبیں ابھرتی اور ڈوبتی رہتی ہیں ۔ اس تہذیبی تصور کو “آگ کا دریا “میں قرۃالعین حیدر نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے :

“اور اس نے دیکھا کہ اس کے بوڑھے ملاّح کا نو کا لہروں میں ڈولتا جا رہا ہے۔ آگے جدھر گھپ اندھیرا ہے اور فضاؤں میں طوفان لرز رہے ہیں اور تاریک دھاراؤں میں مہیب ناکے منہ پھاڑے بیٹھے ہیں اور ہوائیں تیز ہیں مگر پدماکے اس بوڑھےفاقہ زدہ ملّاح کی کشتی بڑے مزے سے عناصر کا مقابلہ کر رہی ہے کیوں کہ عناصر کی بے رحمی اور موت سے اس کی پرانی دوستی ہے۔”(5)

در حقیقت ناول نگار نے اس ناول میں ہندوستان اور پاکستان کی سیاست پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے اس حقیقت کو ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ تقسیم ہند کے اثرات و نتائج تاریخ عالم میں کسی نئے باب کا اضافہ نہیں کرتے بلکہ تقسیم ہندسے پیدا شدہ حالات تاریخ کی ان کرب ناکیوں سے مماثلت رکھتے ہیں جن کا وقت سے گہرا رشتہ ہے۔

قرۃالعین حیدر کو لکھنوی تہذیب اور طرزِ معاشرت سے والہانہ لگاؤ ہے۔حب الوطنی اور انسان دوستی ان کی روح میں داخل ہے۔تقسیم ہند کے نتائج میں ہجرت کے کرب ناک سانحے سے وہ خود دو چار ہوئیں اور اپنے ان تجربات و مشاہدات اور احساسات کو بڑی بے باکی اور ہنر مندی سے صفحۂ قرطاس پر پھیلاتی چلی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے دوسرے ادبی فن پارے کی طرح “آگ کا دریا “میں بھی لکھنوی تہذیب کی نمایاں جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ قرۃ العین حیدر جنسی مساوات کی بڑی علم بردار تھیں۔ ان کا مانناتھا کہ کوئی بھی ملک تبھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے جب وہاں کی خواتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہو کر ہر میدان میں آگے آئیں ۔ وہ خود عورتوں کی نفسیات اور ان کی سماجی حیثیت کا گہرا شعور رکھتی تھیں ۔ ہندوستانی سماج میں عورت خواہ کتنا ہی بڑا مقام یا مرتبہ کیوں نہ حاصل کرلے لیکن اس کی سماجی حیثیت کسی پجارن ، داسی یا کنیز سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ یہ ہمارے سماج کی وہ حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول میں جہاں مرد کردار چھائے رہتے ہیں، کسی نہ کسی صورت میں عورت کا بھی کردار پیش کر کے عدم مساوات کا قلع قمع کرتی نظر آتی ہیں۔” آگ کا دریا “میں مختلف نسوانی کردار مثلاً چمپا، طلعت ،نر ملا، تہمینہ لاج اور روشن وغیرہ کی پیش کش قرۃ العین حیدر کے ذاتی مطالعے ، مشاہدے اور تجربے کا پتہ دیتی ہیں۔ اس میں” چمپا “کا کردار سب سے زیادہ جاذبیت کا حامل ہے بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ کردار نہیں بلکہ پوری عورت ذات کی علامت ہے جو ہر دور میں جنم لیتی ہے کبھی چمپک کہلائی ،کبھی چمپاوتی ،کبھی چمپا بائی اور کبھی چمپا احمد لیکن اپنی زندگی سے ہار نہیں مانی۔

اس طرح مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرۃ العین حیدر نے صدیوں سے ہندستان کی بدلتی ہوئی تہذیب و معاشرت کے ارتقائی تفصیل کو نیم رومانی فلسفیانہ انداز میں پیش کیا ہے جس میں گوتم بودھ کے پیغام امن و محبت سے لے کر مسلمانوں کی آمد ، انگریزوں کی ریشہ دوانیاں ، 1857ءکی اجتماعی جنگِ آزادی اور 1947ء میں تقسیمِ ہند کا عظیم سانحہ وغیرہ کو بیان کر کے ڈھائی ہزار سال کی طویل تاریخ کو فنکارانہ انداز میں بیان کر کے “آگ کا دریا “کو ایک کوزے میں بند کرنے کا کام کیا ہے کہ ناقدین ابھی بھی نئے نئے پہلو پر غور کر کے مختلف گوشے نمایاں کر رہے ہیں جو ان کی مقبولیت کی دلیل ہے۔

 

 

حوالہ جات

(1)یوسف سر مست ،بیسویں صدی میں اردو ناول ،ص480

(2)سفینۂ غمِ دل ،ص271

(3)آئینہ خانے میں ، قرۃ العین حیدر ،کتاب لکھنؤ ،  جنوری  1963ء،ص11

(4)آ گ کا دریا،ص54

(5)آگ کا دریا،ص579

 

مراجع ومصادر

(1) بیسویں صدی  میں اردو ناول ،یوسف سر مست،ترقی اردو بیورو، نئی دہلی،2000ء

(2)  سفینۂ غمِ دل ،قرۃ العین حیدر ،مکتبہ  جدید لاہور،1969ء

(3) آئینہ خانے میں ،قرۃ العین حیدر،مطبوع،”کتاب” لکھنؤ، جنوری 1963ء

(4) آگ کا دریا ، قرۃالعین حیدر ،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،2011ء

(5) آگ کا دریا ، قرۃ العین حیدر،ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،2011ء