Main Menu Top Menu

عبدالعزیز مشری کے ناول الوسمیہ میں خواتین کے مسائل

ڈاکٹر صغیر احمد

 شعبہ عربی، چانچل کالج، چانچل، مالدہ، مغربی بنگال

عبدالعزیز بن صالح مشری کی پیدائش رجب 1374ھ مطابق فروری 1955 عیسوی میں الباحہ علاقہ کےمحضرہ نامی گاؤں میں ہوئی جو طائف سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ کچھ ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے مشری اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے مگر انہوں نے صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کے ساتھ بہترین افسانے لکھے اور ناول نگاری کے میدان میں بھی اپنی منفرد پہچان بنائی۔ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے سعودی عربی ادب میں دیہات کی زندگی خصوصاً جنوبی علاقے کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔ سماجی موضوعات، دیہی سماج کی عکاسی اور خواتین کے مسائل ان کے ناولوں میں واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ان کا انتقال 7 مئی 2000ء کو اتوار کی شام پانچ بج کر ۴۵ منٹ پر جدہ کے کنگ فہد اسپتال میں ہوا۔

عبد العزیز مشری کے ناول (۱) الوسميہ(دار اثر للنشر والتوزیع ـ دمام ـ 2018 (۲)  الغيوم ومنابت الشجر (مختارات فصول المصرية) ـ 1989. (۳) ريح الكادي ، المؤسسة العربية للدارسات والنشر ـ 1992  (۴) الحصون، دار الأرض بالرياض ـ 1992 (۵) صالحة، (مختارات فصول المصرية) ـ 1996 (۶) . في عشق حتى، المؤسسة العربية للدراسات والنشر ـ 1996 (۷) المغزول ہیں۔ آخر الذکر ناول کو ان کی وفات کے بعد ان کے دوستوں نے 2005 میں شائع کیا ـ

عبد العزیز مشری کے ناولوں میں دیہی سماج کی عکاسی کے ساتھ ساتھ خواتین کے مسائل بھی نمایاں طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ بیوہ عورتوں کے مسائلِ، جنس کی بنیاد پر تفریق،  بے میل شادی اور  بیشتر اوقات عورتوں کے ااوپر ہی گھر کی تمام ذمہ داریوں کا تذکرہ اس انداز میں کیا  گیا ہے کہ  محسوس ہوتا ہے کہ یہ عرب کے دیہی سماج کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی تصویر ہے۔

عبد العزیز مشری نے اپنے ناول الوسمیۃ میں عورتوں کے جن مسائل کا ذکر کیا ہے۔ ان میں ایک اہم مسئلہ بیوہ عورت کا ہے ۔ انہوں نے ایک بیوہ عورت کا ذکر کیا ہے جس کا نام حمیدہ ہے ۔ حمیدہ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد گھر کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔ اسی طرح وہ اپنی بوڑھی ماں کی دیکھ بھال اور بچیوں کی پرورش و پرداخت بھی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ زراعت والی تھوڑی سی زمین کو قابل کاشت بنانے کے بعد کاشت بھی کرتی ہے۔ان ساری ذمہ داریوں کو نبھانے کے باوجود بھی وہ مردوں کی مجلس سے دور رہتی ہے۔ ناول نگار حمیدہ کی صفات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے’’اللہ کی قسم، وہ کمزور نہیں ہے اور اس کی دلیل اور عقل میں کمی نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس بات پر قادر ہے کہ اس کے حقوق کی طرف آنکھ اٹھا سکے مگر عورت کے لئے کچھ حدود ہوتے ہیں۔‘‘ (۱)

یہاں پر ناول نگار اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تنہا ایک عورت کے کندھوں پر کس طرح سے پورے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہی ہے ۔ یہاں پر ایک طرف ایک بیوہ کی مجبوریوں اور اس کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ ہے تو دوسری طرف یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ عورت ہونے کی وجہ سے حمیدہ کو کچھ بندشوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حمیدہ اپنی بیٹی سے کہتی ہے ’’اے میری بیٹی۔۔ ضروری ہے کہ تم اپنی دادی اور چھوٹی بہن کے ساتھ گھر میں بیٹھو۔۔ میں، اللہ میری مدد کرے۔۔ وادی اور کھیتی میں اپنا کام کرونگی! ‘‘ (۲)  اس کے بعد ناول نگار کہتا ہے کہ ’’حمیدہ کی بیٹی بہت زیادہ باہر نہیں نکل پاتی تھی..لیکن اس کی امی اس کو پانی لانے جانے سے منع نہیں کرتی تھی۔ (پانی لانے صرف مضبوط اور قابل لڑکیاں ہی جاتی ہیں)َ ڈول، جب پانی سے بھرا ہوا ہو تو اس کو کھینچنے کے لیے، اس کو اٹھانے کے لیے اور اس کے پانی کو بھیڑ کے چمڑے سے بنے ہوئے صاف مشکیزے میں انڈیلنے کے لیے مضبوط بازو کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مشکیزوں پر کالے تارکول کی طلی چڑھی ہوتی ہے۔ عورتوں اور لڑکیوں میں سے کون مشکیزوں کو استعمال کرے گا اسی کے اعتبار سے وہ بڑے اور چھوٹے ہوتے ہیں۔‘‘ (۳)

یہاں پر ناول نگار ایک عورت کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ عورت ایک ماں کی حیثیت سے تمام قسم کی پریشانیاں برداشت کرتی ہے مگر وہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کی بیٹی گھر سے باہر نکلے اور ان تمام پریشانیوں اور مشکلات کا سامنا کرے جو وہ خود کر رہی ہے۔ مگر یہ پوری طرح سے ممکن نہیں ہے جیسا کہ ناول نگار خود بیان کرتا ہے کہ اس لڑکی کو پانی لانے جانا پڑتا تھا۔ اس کے بعد مصنف یہ واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ پانی لانا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ مشقت والا کام ہےاور اس کے لیے مضبوط بازوؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کے بعد ناول نگار ابو صالح کی بیوی کے گھر اس کے بھائی کے آنے کا تذکرہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دو گھنٹے کی مسافت ہے اس کے باوجود بھی تم ماں سے ملاقات کرنے کے لیے نہیں آتی ہو۔ اس پر ابو صالح کی بیوی معذرت کرتی ہے اور کہتی ہے کہ وسمیہ (موسم بہار کی بارش) اور گھر کے کام اور اہل وعیال کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ اس کردار کے ذریعہ مشری اس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایک عورت تمام قسم کی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے کس قدر دبی ہوتی ہے کہ اس کو اپنے عزیز واقارب یہاں تک کہ اپنی ماں سے بھی ملنے کا وقت نہیں ملتا ہے۔

پھر ناول نگار ایک تلخ حقیقت کو بیان کر تا ہے کہ ’’لوگوں کا کہنا ہے کہ میت کی وہ بیوی بھی رو رہی تھی جس کو اس نے ایک سال پہلے بچہ ناجننے کی وجہ سےطلاق دے دیا تھا‘‘۔ (۴) یہاں پر سماج کی عکاسی کی گئی ہے جہاں ایک عورت کو صرف اس بنا پر طلاق دے دی جاتی ہے کہ وہ بچہ جننے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہےوہیں دوسری طرف عورت کی رحم دلی اور شفقت کا ذکر ہے کہ اگرچہ اس شخص نے اس کو طلاق دے دیا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے سابق شوہر کی وفات کی خبر پانے کے بعد اس کے گھر جاتی ہے۔

مشری نے عورتوں کے باہمی تعاون اور ہمدردی کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ مصیبت کے وقت وہ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح سے تعاون کرتی ہیں۔ مشری لکھتے ہیں کہ’’ عورتیں جمع ہوتی ہیں اور کہتی ہیں یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم پانی لانے اور دیگر تمام ضروریات کی تکمیل میں اس شخص کی ماں کی مدد کریں‘‘(۵)

ناول نگار نے ایک اہم سماجی مسئلہ کی طرف ااشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ماں، دادی اور ان کی بہنیں اندر گھر میں کھانا کھاتی ہیں۔ وہ مریحہ (آٹے اور گھی کا حلوہ) اور شوربہ کھاتی ہیں جبکہ گوشت مرد حضرات کے لئے ہے۔‘‘ (۶)  یقینا ًیہ ایک قابل توجہ امر ہے کیوں کہ یہ مسئلہ نہ صرف عرب کے دیہی سماج کا ہے بلکہ ہمارے معاشرے میں خصوصا ًدیہاتوں میں اب بھی یہ رواج موجود ہے کہ کھانے پینے کے معاملات میں عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

مشری اپنے اس ناول میں ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی غلطی لڑکی اور لڑکا دونوں سے ہو جائے تو سماج میں لڑکی کو ہی بدنامی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ لڑکی اپنی ماں کو اس واقعہ کے بارے میں بتاتی ہے اس کے بعد لڑکی کی ماں کہتی ہے کہ اپنے والد کو یہ بات مت بتانا،ورنہ وہ مار ڈالیں گے۔ اس کا علاج میرے پاس ہے اور وہ اپنے طور پر علاج کرنے لگتی ہے۔ لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا اور آخر کار ایک دن کنویں میں عورت کی لاش ملتی ہے۔ اس عورت نے خودکشی کرلی تھی کیونکہ اس کو بدنامی کا ڈر تھا۔

اس ناول میں عبد العزیز مشری نے عورتوں کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح سے سماج اور معاشرے میں خواتین کو مختلف محاذ پر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ گھر اور باہر دونوں جگہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جیسا کہ اس ناول میں بیان کیا گیا ہے کہ گوشت مرد حضرات کے لیے ہے اور اسی گھر کی خواتین کو گوشت نہیں دیا جاتا ہے بلکہ ان کے لیے دوسرا کھانا ہے۔ دوسر ے واقعہ میں غلطی لڑکی اور لڑکے دونوں کی ہوتی ہے مگر بدنامی اور ڈر کی وجہ سے خود کشی لڑکی کو کرنی پڑتی ہے۔

حواشی

(۱) الوسميہ (دار اثر للنشر والتوزیع ـ دمام ـ 2018 ص 8

(۲) ایضاً ص13

(۳) ایضاً ص14

(۴) ایضاً ص 53

(۵) ایضاً ص53

(۶) ایضاً ص۴۰