Main Menu Top Menu

سید احمد شہید بریلوی اور ان کی تحریک (29؍نومبر1786۔6؍مئی1831) (6؍صفر1201ھ ۔ 24؍ذی قعدہ 1246ھ)

ڈاکٹر محمد اکمل

ایسو سی ایٹ پروفیسر، اردو

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی،   لکھنؤ

ڈاکٹر عبدالحفیظ

صدر، شعبۂ عربی

خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی،   لکھنؤ

            مشترکہ تہذیب و تمدن کے حامل ہندوستان کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ ہندوستان زمانۂ قدیم سے سیاسی و سماجی، مذہبی و معاشرتی اورمعاشی و تعلیمی اعتبار سے انفرادی پہچان رکھتا ہے۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل ہندوستان متعدد چھوٹی بڑی ریاستوں میں منقسم تھا۔یہ ریاستیں اکثر آپس میں اقتدار اور سرحدوں کے لیے لڑتی رہتی تھیں۔طاقتور ریاست کمزور کو اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اس وقت بدھ مت، جین مت اور ہندو مذہب کے ماننے والے مختلف علاقوں میں پائے جاتے تھے۔ معاشی اعتبار سے ہندوستان کا شمار خوش حال ممالک میں ہوتا تھا۔ معاشی خوش حالی کی وجہ سے ہندوستان کو ‘سونے کی چڑیا’  کہا جاتا تھا۔اس ملک کی معیشت کی بنیاد زراعت تھی۔ ہندوستان کےتجارتی تعلقات عرب اور ایران سے بہت اچھے تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمان تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے۔ آٹھویں صدی عیسوی کے ابتدائی ایام میں محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کرکے اپنی حکومت قائم کی۔ بارہویں صدی عیسوی تک شمالی ہند میں مستحکم مسلم حکمرانی کی بنیاد پڑی۔ مسلمانوں نے ہندوستانی معاشرے پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرنے والی نئی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی روایات متعارف کرائیں ۔

            ‘ہر کمالے را زوالے’کے تحت اٹھارہویں صدی میں مسلمانوں کی حکومت رو بہ زوال ہوئی۔ انگریزوں کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا، سکھوں اور جاٹوں کی زیادتی حد سے تجاوز کرنے لگی۔ لوگوں کی عزت و آبرو اورجان و مال کو پامال کیا جانے لگا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اس ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند کی، دہلی میں سید احمد بریلوی کی تربیت شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالعزیز  کر رہے تھے، سید احمد نے شاہ ولی اللہ کے دوسرے بیٹے شاہ عبدالقادر سے قرآن و حدیث کی مبادیات اور فارسی زبان سیکھی۔ شاہ عبدالعزیز نے سید احمد کو شاہ ولی اللہ کے ذریعہ چلائی گئی تحریک کی قیادت کے لیے تیار کیا۔

            شیخ احمد بن عبد الاحد فاروقی سرہندی (مجدد الف ثانی) نے ایک چراغ روشن کیا تھا جسے جلائے رکھنے کے لیے شاہ ولی اللہ  نے ایک ٹیم تیار کردی تھی۔ اس ٹیم کے افراد میں شاہ ولی اللہ کے چاروں صاحبزادوں شاہ عبد العزیز، شاہ عبد القادر، شاہ رفیع الدین، شاہ عبد الغنی اور سید احمدبریلوی و شاہ اسماعیل نے  اس ملک کی تقدیر بدلنے اور مظلوموں کی داد رسی کی پوری کوشش کی۔ ملک کو جور و ستم سے نجات دلانے اور کلمۃ الحق کی بلندی کی خاطر علم جہادبلند کیا۔ لکھنؤ کی جامع مسجد (ٹیلے والی مسجد)کی سیڑھیوں پر شاہ اسماعیل کے مواعظ اور احیائےسنت اور بدعت کے خاتمے کے لیے ان کی کتاب ‘تقویت الایمان’  ہدایات کا روشن چراغ ثابت ہوئی۔

عام لوگوں کو سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل کے بارے میں اتنا معلوم ہے کہ انہوں نے جس وقت آنکھیں کھولیں پورے پنجاب پرسکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان مجاہدین نے اسلام کا علم اٹھایا، بہت سے لوگوں نے ان کا ساتھ دیا، ان لوگوں نے سرحد پار کرکے سکھوں سے مقابلہ کیااور شہید ہوگئے۔ حالانکہ یہ واقعہ اس پوری تاریخ کا ایک باب ہے۔ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی جد و جہد اور کاوشوں کو تاریخ اسلام میں تحریک شہیدین کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سیداحمد 6؍صفر1201ھ مطابق29؍نومبر1786ء  دو شنبہ کو رائے بریلی میں پیداہوئے ۔ اس ضمن میں مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی لکھتے ہیں۔

“سید صاحب ان کی پانچویں پشت میں ہیں ، دائرہ شاہ علم اللہ میں صفر 1201ھ نومبر 1786ء میں پیدا ہوئے، والد کا نام سید محمد عرفان اور دادا کا نام سید محمد نور تھا۔” (جب ایمان کی بہار آئی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ص :15)

سید احمد کا سلسلۂ نسب چوتھے خلیفہ حضرت علی سے جا کر ملتا ہے۔ اس خاندان میں مجاہدین کی کمی نہیں۔ حضرت علی اور حضرت حسن کے بعد محمد النفس الزکیہ نے علم جہاد بلند کیاتھا۔ خود ہندوستان میں اس خاندان کے بانی سید قطب الدین محمد المدنی ایک معروف عالم و بزرگ تھے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و تقویٰ کی دولت کے ساتھ ساتھ شجاعت و بہادری کا جوہر اور جہاد کا جذبہ عطافرمایا تھا۔ سید قطب الدین غزنی کے راستے سے مجاہدین کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ ہندوستان آئے۔ مختلف مقامات پر ٹھہرتے ہوئے کڑامانک پور (الہ آباد) کو فتح کرنے کے بعد اس کو اپنا مستقر بنایا، وہیں انتقال کیا اور وہیں مدفون ہوئے۔ سید قطب الدین کی اولاد سیادت وامارت کے ساتھ علم و فضل اور زہد و تقویٰ کی دولت سے بھی مالامال تھی۔ سید قطب الدین کے اخلاف میں سے ایک شاہ علم اللہ بھی ہیں۔ جو عہد عالمگیری کے مشہور عالم اور بزرگ تھے۔

سید احمدچار سال کی عمر میں مکتب میں بٹھائے گئے، تعلیم کی طرف طبیعت کے میلان نہ ہونے کی وجہ سےتین سال کی مسلسل کوششوں کے بعد تعلیم چھوڑدی۔ اس دوران عربی و فارسی کی کچھ ضروری تعلیم اور قرآن مجید کی چند صورتیں یاد ہوگئیں اور دین کے ضروری مسائل سے بھی آگاہی ہوئی۔ جب سید احمد بارہ برس کے ہوئے تو والد محترم کا انتقال ہوگیا۔ حالات کا تقاضا تھاکہ سید احمدگھر کی ذمہ داریاں قبول کرتے ہوئے فکر معاش کریں۔ سولہ سترہ برس کی عمر میں سید احمد اپنے کچھ عزیزوں کے ساتھ فکرمعاش میں لکھنؤ چلے گئے۔ لکھنؤ میں ایک نواب کے یہاں کچھ دنوں قیام رہا۔ پھر دہلی گئے اور شاہ عبدالقادر کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور شاہ عبد العزیز  سے بیعت کی۔ اس وقت سید احمد کی عمر 22؍سال سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ ان کا پہلا سفر تھا۔ سید احمد دہلی سے وطن واپس آگئے اور تقریباً دوسال وہیں رہے۔ اسی دوران انہوں نے شادی بھی کی۔ سید احمد کی ولی اللہی خاندان سے وابستگی کے سلسلے میں مولانا علی میاں ندوی یوں رقمطراز ہیں۔

“حضرت شاہ عبدالعزیز، اور شاہ عبد القادر کی صحبت و خدمت میں رہ کر آپ نے اس قدر باطنی ترقی کی اور وہ بلند مقامات حاصل کئے جو بڑے بڑے مشائخ کو بڑی بڑی ریاضتوں، اور مجاہدوں سے حاصل ہوئے ہیں، کچھ عرصہ کے بعد شاہ عبدالعزیز صاحب سے اجازت و خلافت لے کر وطن رائے بریلی واپس ہوئے ، دو سال وطن میں قیام کیا، اور شادی کی ۔” (جب ایمان کی بہار آئی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ص: 17)

اس کے بعد سید احمدبریلوی نے راجپوتانہ کا سفر کیا۔ جہاں نواب امیر خاں کا قیام تھا۔ دہلی ہوتے ہوئے نواب امیر خاں کے پاس پہنچے، سیداحمد کے دل میں جہاد کا شوق بچپن ہی سے موجود تھا۔ شاہ عبد القادر اور شاہ عبدالعزیز کی تعلیم و تربیت نے سید احمد کے اندر جہاد کا جوش وخروش دوبالا کردیا۔ یہ جوش صرف جوش ہی نہیں تھابلکہ ولی اللہی خاندان کے علم وفہم کا ہوش بھی تھا۔ نواب امیر خان کی فوج میں رہ کرسید احمد نے فوجیوں اور امیر خاں کو جہاد کی ترغیب دلائی اور ان میں جذبۂ جہاد پیدا کرنے کی کوشش بھی کی۔ متعدد لڑائیوں میں سید احمد ایک دستہ کے سپہ سالار اور نواب امیرخاں کے مشیر خاص رہے۔

سید احمد راجپوتانہ میں نواب امیرخاں کے لشکر میں چھ سال رہے۔ جب امیر خاں نے اپنے بعض قریبی ساتھیوں کی بے وفائی اور حالات سے مجبور ہوکر انگریزوں سے صلح کرنی چاہی تو سید احمد نے امیر خاں کو بہت سمجھایا اور انگریزوں سے صلح کی سخت مخالفت کی، باوجود اس کے امیر خاں نے انگریزوں سے صلح کرکے ٹونک کی ریاست قبول کرلی تو سید احمد نے مایوس ہوکر امیر خاں کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا، پھر کچھ آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر جے پور چلے گئے۔ جب سید احمد کی دوبارہ ملاقات نواب امیر خاں سے ہوئی تو ایک بار پھر نواب صاحب کو سمجھانے کی کوشش کی اور انگریزوں سے مصالحت نہ کرنے کا مشورہ دیا۔اس بار سید احمد کی باتوں کا اثر ہوا، سید احمد دوبارہ لشکر میں گئے۔ نواب امیر خاں سے ملاقات کی، نواب صاحب شرمندہ ہوئے اورکہا کہ سید صاحب جو کچھ ہونا تھا، ہوا۔ قدرت کے قانو ن کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ ہاں اب آپ دہلی کو جاتے ہیں تو محمد وزیر خاں کے ہمراہ جائیے۔ بہر حال سید احمد صاحبزادہ محمد وزیر خاں کے ساتھ دہلی گئے۔ سید احمد نے ملک کے مختلف مقامات کا جو دورہ کیا، اس سے نہ صرف توحید کا بول بالا اور شرک وبدعات کا بازار سرد ہوا بلکہ ایک طرف لاتعداد مسلمانوں نے ان سے بیعت کی تو دوسری طرف بہت سے غیر مسلم ان کی دعوت وتبلیغ سے متأثر ہوئے۔ اس سلسلے میں محمد سلیمان فرخ آبادی لکھتے ہیں ۔

“سید صاحب نے اپنے رفیقوں کے ہمراہ جو ملک کے مختلف مقامات کا دورہ کیا، اس کے اثرات سے صرف یہی نہیں ہوا کہ توحید کی روشنی پھیلی اور بدعات کی تاریکی چھٹی بلکہ ایک طرف اگر لاکھوں مسلمانوں نے بیعت کی تو دوسری طرف ہزاروں غیر مسلم آپ کی تبلیغ سے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔” (کربلا سے بالا کوٹ تک، محمد سلیمان فرخ آبادی، ص: 132 ۔131)

            اس دورے کے بعد قحط سالی کے زمانے میں سید احمد اپنے وطن رائے بریلی پہنچے۔ اس کے بعد انہوں نے الہ آباد، بنارس، کانپور اور سلطان پور کاسفر کیا، سلطان پورسے سید احمد بریلی گئے اور  دوہفتہ قیام کرکے 1818ء میں لکھنؤ گئے۔ اس وقت لکھنؤ اودھ کا دارالخلافہ اور اینگلو انڈین سیاست کا ایک بڑا مرکزتھا۔

سید احمد شوال کی پہلی تاریخ 1236ھ مطابق 2؍جولائی 1821ء چار سو آدمیوں کے ساتھ  رائے بریلی سے حج کے لیے روانہ ہوئے، اور یکم رمضان 1239ھ مطابق 30؍اپریل 1824ء کو  حج سے رائے بریلی واپس ہوئے۔ ان کا یہ سفر حج تقریباًسات ہزار میل پر مشتمل تھا۔ حج سے واپسی کے بعد رائے بریلی میں ایک سال دس مہینے قیام رہا۔اس  دوران سید احمد کا اہم مشغلہ جہاد کی ترغیب اور دعوت و تبلیغ تھا۔ انہوں نے حج کے بعد دعوت وتبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا عبد الحئی، شاہ اسماعیل اور دوسرے رفقاء کودعوت و تبلیغ کے لیے مختلف اطراف میں بھیجا گیا۔ اس وقت مسلمانوں پرسکھوں کا ظلم زوروں پر تھا۔ ان کی عبادت گاہیں، عورتیں،بچے اور وہ خود بھی محفوظ نہیں تھے۔ لاہور کی شاہی مسجد کے حجروں کو شاہی اصطبل کے طور پر استعمال کیا جانے لگا  تھا۔ متعددمقامات پر اذانوں اور دیگر کئی اسلامی شعار پر بندش تھی۔ مسلمانوں کی جان ومال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں تھی۔ اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کا پورانقشہ سید احمد کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ چنانچہ انہوں نے سکھوں سے جہاد کے لیے مختلف شہروں میں خلیفے مقرر کئے۔ جن کا کام تھا کہ ہر قصبے اور گاؤں میں وعظ کرتے پھریں اور سکھوں سے جہاد کے لیے روپئے جمع کریں۔ اس وقت جہاد بغیر ہجرت کے مشکل تھا۔ چنانچہ سید احمد نے 17؍جنوری1826ء کو اپنے وطن رائے بریلی کو خدا حافظ کہا۔ اس وقت سید احمد کا قافلہ چھ سو افراد پر مشتمل تھا۔ سید احمد کی پہلی منزل دلمئو تھی، اس کے بعد فتح پور، باندہ، جالون، گوالیاراور ٹونک گئے۔ ہرجگہ اور ہر مقام پر لوگوں نے ان کوخوش آمدید کہا۔ جب گوالیار سے ٹونک گئے توٹونک کے نواب امیر خاں نے پرجوش استقبال کیا۔ پھر ٹونک سے اجمیر اور پالی ہوتے ہوئے حیدر آباد سندھ پہنچے۔ حیدرآباد میں ایک ہفتہ قیام کرکے پیر کوٹ گئے اور وہاں دو ہفتے قیام کیاپھر شکار پور گئے۔ حیدر آباد کے بزرگوں سے ملاقاتیں کیں ، شکار پو رسے چل کر مختلف مقامات پر ٹھہرتے ہوئے درہ بولان سے گزر کر شال (کوئٹہ) پہنچے، شال کے امیر نے بڑی ارادت مندی کا اظہار کیا اور وہاں کے علما نے بیعت کی۔ شال (کوئٹہ) سے چل کر قندھار پہنچے،اس وقت افغانستان پر بارک زئی بھائیوں کا قبضہ تھا۔ قندھار پر پُردل خاں ، غزنی پر میر محمد خاں ، کابل پر دوست محمد خاں اور سلطان محمد خاں اور پشاور پر یار محمد خاں حاکم تھے۔ ان بھائیوں کے درمیان نااتفاقیاں تھیں۔ وہ آئے دن جنگوں کا شکار ہوتے رہتے تھے۔ سید احمد کا ایک مقصد یہ بھی تھاکہ  ان بھائیوں کو متحد کرکے مخالفین اسلام سے جہاد کے لیے آمادہ کریں۔ قندھار میں چار دن سید احمد کا قیام رہا، قندھار سے غزنی گئے، جہاں پر دودن قیام کرکے کابل چلے گئے، کابل میں ڈیڑھ مہینے ٹھہرے ، انہوں نے بارک زئی بھائیوں میں مصالحت کرانے کی پوری کوشش کی، جب اس میں کامیابی نہ ملی تو مجبوراً پشاور کی طرف روانہ ہوئے۔ پشاور میں تین روز قیام کرکے ہشت نگر ہوتے ہوئے نو شہرہ چلے گئے۔ جہاں سے جہاد جیسے فریضے کی ادائیگی کا آغاز کیا جو برسوں کی دعوت و تبلیغ اور جد و جہد کا ماحصل تھا۔ نوشہرہ سے انہوں نے حکومت لاہور کو اخبار نامہ بھیجا، جس میں سب سے پہلے اسلام کی دعوت، ورنہ جزیہ اور اطاعت کرنے کا مطالبہ کیااور ان دونوں کو قبول نہ کرنے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دی۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ تم کو شراب سے اتنی محبت نہ ہوگی جتنی ہم کو شہادت سے ہے۔ اس کے جواب میں حکومت لاہورنے سکھوں کا ایک بڑا لشکر مقابلہ کے لیے بھیج دیا۔ جس کی خبر ملتے ہی سیداحمد نے جنگ کی تیاری شروع کردی۔ سیداحمد کے ساتھیوں کی تعداد سات سو تھی جبکہ سکھوں کی تعداد سات ہزار۔ 20؍دسمبر 1826ء کو آدھی رات کے قریب مقابلہ ہوا۔ رات گزرتے گزرتے سکھوں کی جماعت پوری طرح پسپا ہو گئی۔ اس جنگ سے مسلمانوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ اس جنگ کے بعد حضرو جو ایک منڈی تھی اور سکھوں کی عمل داری میں تھی۔ سید احمد نے شبخون مارنے کی اجازت دے دی۔

مقام ہنڈمیں 13؍جنوری1827ء کو سید احمد کے ہاتھ پر بیعت امامت و خلافت کی گئی۔ خاوی خاں، اشرف خاں، فتح خاں، بہرام خاں اور چھوٹے بڑے جتنے رئیس اور خان تھے، سب نے بیعت امامت کی، تمام علمائے ہند نے سید احمد کی امامت کو قبول کیا، بیعت کی اطلاع خطوط اور دعوت نامے کے ذریعےسرداروں اور رؤسائے ہندوستان کو بھیجی گئی۔ پشاور کے حکمراں سردار یار محمد خاں، سلطان محمد خاں وغیرہ نے بیعت کرلی، امیر بننے کے بعد انہوں نے پورے علاقے میں شرعی نظام قائم کرکے شریعت کے احکام جاری کردیئے اور تمام فیصلے شرعی قوانین کے مطابق ہونے لگے۔ سیداحمد کے امیر منتخب کئے جانے کے بعد چھوٹے بڑے سرداروں کی خود مختاری ختم ہوگئی۔ شراب نوشی، قمار وجوا بازی مجبوراًچھوڑنا پڑا۔ جس سے ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک رہی تھی، انہوں نے مجبوراً سید احمد سے بیعت کی تھی، اندرونی طور پر سکھوں سے ساز باز کررہے تھے۔ ان لوگوں کی زبانیں سید احمد کے ساتھ تھیں اور دل سکھوں کے غلام تھے۔ انہوں نے سکھوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ کی خواہش ظاہرکی۔ ان کے مشورے پر شیدو کامیدان منتخب کیاگیااور جنگ کی تیاریاں ہونے لگیں ۔

سید احمد کے لیے دونوں وقت کاکھانا درانیوں کے لشکر سے آتا تھا۔ ایک رات سردار یار محمد خاں نے زہرآلود کھچڑی اور گنے کی گنڈیریاں سید احمد کے کھانے کوبھیجیں۔  کھانے کے کچھ دیر بعد سید احمدصاحب کی طبیعت بگڑنے لگی، کبھی غشی آتی اور کبھی افاقہ ہوتا۔ لشکر میں چرچا ہوا کہ یار محمد خاں نے سید احمد کو زہر دلوادیا ہے۔ سردار سلطان محمد خاں، پیر محمد خاں اور فتح خاں نے اپنے اپنے گھوڑوں کی باگیں سنبھالیں اور سکھوں کو اپنے لشکر میں واپس جانے پر مجبور کردیا۔ اس دوران غازیوں نے سکھوں پر کئی حملے کئے۔ یہاں تک کہ ان کی توپیں چلنا بند ہوگئیں اور صاف نظر آنے لگا کہ لشکر اسلام کو فتح ہوئی۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے سید احمد کو مبارکباد بھی دے دی، سید احمد کی حالت اب بھی خراب تھی۔ سردار یار محمد خاں جہاں کھڑاتھا وہیں کھڑا رہا۔ اپنی جگہ سے نہ ہلاکہ اچانک سکھوں کی طرف سے یار محمد خاں کے قریب توپ کا ایک گولہ آیا جس سے کئی سوار اڑگئے۔ اس حادثے کو دیکھتے ہی یار محمد خاں نے راہ فرار اختیار کیا،اس کے بعد یار محمد خاں کے تمام سوار پشاور کے سکھ سرداروں سے مل گئے۔ اس لڑائی کے بعد سید احمد کو سکھوں کے ساتھ ساتھ سرداران پشاور سے بھی مقابلہ کرنا پڑا۔

والی پنجتار کی خواہش پرسیداحمد ہنڈسے پنجتار پہنچے۔ پنجتار طویل عرصہ تک مجاہدین کا مستقر رہا۔ پنجتار کے مستقر بننے اور آبادہونے سے خاوی خاں والی ہنڈ کو بڑی تشویش ہوئی۔ وہ سید احمد سے کبیدہ خاطر ہوا اور نقصان پہنچانے کے درپے ہوگیا۔چنانچہ سید احمد نے پنجتارسے سوات کے مرکزی علاقے سیدو شریف کا سفر کیا جہاں ایک سال قیام کیا۔ رنجیت سنگھ کی فوج ہرسال دسہرے کے بعد ایک بار علاقۂ چھچھ  میں آتی، اس کا بڑا افسرسمہ کے رؤساء سے رنجیت سنگھ کے لیے گھوڑے ، باز اور شکاری کتے لے جاتا، صرف فتح خاں پنجتاری یہ چیزیں نہیں دیتا تھا۔  سید احمد نے اس علاقے میں اپنے لشکر کے ساتھ پہنچنے کے بعد لوگوں کو رنجیت سنگھ کے لیے گھوڑے ، باز اور شکاری کتے دینے سے روک دیا۔ کچھ دنوں کے بعد وینٹورہ نامی فرانسیسی آفیسر رنجیت سنگھ کے لیے وصولی کی خاطر فوج لے کر چھچھ میں آیا۔ خاوی خاں کے علاوہ کسی رئیس نے نعل بندی نہیں دی۔ جس پر وینٹورہ نے دس بارہ ہزار فوج کے ساتھ مجاہدین پر حملہ کردیا۔ خاوی خاں نے وینٹورہ کی مدد کی۔ وینٹورہ مجاہدین کا جوش و خروش اور شوق شہادت دیکھ کر پسپا ہوا، کئی ماہ کے بعد پھر وینٹورہ نے سمہ کا رخ کیا۔ خاوی خاں نے درپردہ اس کی مدد کی۔ سید احمد نے اہل علاقہ کو وینٹورہ کی آمد کی خبردی اور خطوط لکھوائے اور ایک دفاعی دیوار تیار کراکے جنگ خیبر کی یادتازہ کردی۔ پھر مجاہدین سے اپنے ہاتھوں پر موت کی بیعت لی۔ وینٹورہ نے پھر پسپائی اختیار کی۔ سیداحمد نے قلعہ ہنڈ پر حملہ کرکے خاوی خاں کو قتل کرادیا۔ خاوی خاں کے بعد اب یار محمد خاں کی باری تھی۔ جس نے میدان شیدو سے فرار اختیارکیاتھا، اس نے اپنے تخریبی مقاصد کی تکمیل اور مجاہدین کے مقابلہ کے لیے حکومت لاہور کو ابھارا تھا،نیز سیداحمد کے قتل، مجاہدین اور ان کے رفقاء کو نقصان پہنچانے کی  کوشش بھی کی تھی۔ اس سلسلے میں سید احمد اور یار محمد خاں کے درمیان گفتگو ہوئی، سید احمد نے اس کو بہت سمجھایا، خدا کی یاد دلائی لیکن اس نےسید احمد کی باتیں ماننے سے انکار کرکے صلح کے پیغام کو  رد کردیا۔ مجاہدین کے سمجھ دار لوگوں بالخصوص مولانا محمد اسماعیل کی رائے کے مطابق آیت:

﴿ وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ (سورۃ الحجرات، آیت 9) کے تحت رات ہی میں مولانا محمد اسماعیل کی قیادت میں آٹھ سو افراد پر مشتمل ایک لشکر یار محمد خاں کے قریب پہنچ گیا۔ لشکر نے غیر معمولی جرأت کا ثبوت دیتے ہوئے دشمنوں کے پاؤں اکھاڑ دیے جو اپنا ساز وسامان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ یار محمد خاں اس لڑائی میں سخت زخمی ہوا، اسے زخمی حالت میں کسی مقام پر لے جایا جارہا تھا ، پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔ دوسری طرف خاوی خاں کا بھائی امیر خاں زمین جائداد کے جھگڑے میں اپنے مخالفین کے ہاتھوں قتل ہوا۔ اب دعوت و جہاد کے لیے فضا بالکل صاف ہوتی نظر آ رہی تھی۔ اس وقت پشاور پر درانیوں کا قبضہ تھا، ایک خبرپھیل گئی تھی کہ مجاہدین پشاور پر حملہ کرنے والے ہیں۔ چنانچہ درانیوں نے پشاور کو بچانے کے لیے ہنڈ سے ہٹ کر پشاور کا رخ کیا۔

یار محمد خاں کی ہلاکت پر اس کے بھائی سلطان محمد خاں نے انتقام لینے کی غرض سے مجاہدین سے ایک فیصلہ کن جنگ کا عزم کیا۔  اس نے درانیوں کو لے کر مقام ہوتی پہنچا۔سیداحمد بھی اپنے رفقاء کے ساتھ تورو اور ہوتی میں خیمہ زن ہوئے۔ تورو اور ہوتی کے درمیان مایار کے میدان میں خونریز جنگ  میں مجاہدین کو فتح مبین حاصل ہوئی۔ مایار کی جنگ میں فاتح ہونے کے بعد  مجاہدین کا لشکر اواخر ستمبر1829ء میں بلا مزاحمت پشاور میں داخل ہوا۔ سید احمد نے شہر میں داخل ہوتے ہی امن کا اعلان کردیا۔ دوکانیں کھل گئیں ، باشندگان شہر نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئے مجاہدین کا خیر مقدم کیا، بازاری عورتیں روپوش ہوگئیں اور مقدمات کے فیصلے کے لیے عدالت قائم کردی گئی۔ سلطان محمد خاں نے جب دیکھا کہ پانسہ پلٹ چکا ہے تو ارباب فیض اللہ خاں کے ذریعہ سیداحمد سے اپنی غلطی کی معافی مانگی اور حکومت پشاور کی درخواست کی۔ کچھ مجاہدین نے درخواست کی مخالفت بھی کی مگر سید احمد اور ان کے ساتھیوں نے معاف کرکے سلطان محمد خاں کو حاکم مقرر کر دیا اور مولانا سید مظہر علی عظیم آبادی کو جج بنایا گیا۔ ان انتظامات کے بعد سید احمد نے اپنے لشکر کے ساتھ پنجتار کیمپ میں جاکراقامت اختیار کی۔

سیداحمد کے ذریعے اسلامی قوانین کے نفاذ سے درانیوں اور سرداران قبائل کی آزادی ختم ہوتی نظر آرہی تھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر اس نظام کو کچھ دن اور مہلت مل گئی تو ان کی آزادی کبھی واپس نہ آسکے گی اس لیے انہوں نے شرعی نظام سے نجات کی کوشش شروع کردی۔ سید احمد کے جاتے ہی سلطان محمد خاں نے عوام و خواص کو بھڑکانے کے لیے ایک چلتا ہوا لفظ ‘وہابی’ استعمال کیاجو بریلوی مسلمانوں میں نفرت پھیلانے کے لیے جادو کا اثر رکھتا تھا۔ اسی لفظ وہابی نے سرحدی پٹھانوں اور تمام علاقے کو سید احمد اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بھڑکادیا۔ بریلوی مسلمان سید احمد اور ان کے ساتھیوں کے پیچھے پڑگئے۔ سلطان محمد خاں نے سرحدی پٹھانوں کو سید احمد کے خلاف بھڑکانے کے ساتھ پشاور کے مجاہدین کا قتل عام شروع کیا۔اس سفاکانہ قتل عام سے سید احمد کا دل ٹوٹ گیا، ان کی وعدہ خلافی، احسان فراموشی اور ظلم وبربریت سے اتنا کبیدہ خاطر ہوئے کہ وہاں سے ہجرت کا ارادہ کرلیا۔ جب ہجرت کی خبر گرم ہوئی توپنجتار کے لوگ فکرمند ہوئے اور سید احمد سے ہجرت نہ کرنے کی درخواست کرنے لگے مگر سید احمد راضی نہ ہوئے۔ سید احمد کو معلوم تھاکہ سلطان محمد خاں کی سازش اور مجاہدین کے قتل عام کے منصوبے میں فتح خاں اور اس کے قبیلہ کے لوگوں کا ہاتھ ہے۔ فتح خاں نے خود بھی سید احمد کو ہجرت نہ کرکے رکنےکے لیے کہا۔ بہر کیف سید احمد نے فتح خاں کے ساتھ عفو و در گزر اور احسان مندی کا معاملہ کیا اور اس کو کچھ تحائف  کے ساتھ پنجتار کا علاقہ سپرد کرکے کوچ کیا۔

سید احمد نے ماہ رجب 1246ھ میں پنجتار سے روانگی کا اعلان کیا، مختلف مقامات ہوتے ہوئے سیحون اور سیحون سے کوچ کرکے موسم سرما میں بالا کوٹ پہنچے۔ اس وقت شدید برفباری ہورہی تھی جس کی وجہ سے آگے کا سفر جاری رکھنا مشکل تھا۔ اس لیےبالا کوٹ ہی میں ایک محفوظ میدان منتخب کیا گیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کاولی عہد شیرسنگھ بھی اسی علاقہ میں چند میل کے فاصلہ پر تقریباً بیس ہزار فوج کے ساتھ ڈیرا ڈالے ہوئے تھا۔ مئی کا مہینہ آیا، برفباری کم ہوئی اور لشکروں میں حرکت شروع ہوئی۔ شیر سنگھ نے اچانک غازیوں پر حملہ کردیا۔ مجاہدین نے اس کاسخت جواب دیا۔ کثیر تعداد میں دشمن مقتول ہوئے، جنگ نے شدت اختیار کرلی، دوران جنگ لوگوں نے مڑکر دیکھا کہ تو سید احمد کہیں نظر نہیں آئے ۔ شاہ اسماعیل کو آخری بار اس حال میں دیکھا گیاکہ بندوق گردن میں حائل ہے ، ہاتھ میں تلوار ہے، پیشانی خون آلود ہے اور خون کو اپنے ہاتھ سے صاف کر  رہے ہیں۔ اس جنگ سے مجاہدین کا کافی نقصان ہوا، انہیں بہت سی دقّتوں کاسامنا کرنا پڑا، شاہ اسماعیل شہید ہوگئے۔ اس معرکہ میں تقریباً تین سو مجاہدین شہید ہوئے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جنگ کے اختتام پر ایک مسلم بچہ کی رہنمائی پر شیر سنگھ نے مسلمانوں کو ان کے مذہب کے مطابق تجہیز وتکفین کی اجازت دی۔مولانا سید محمد میاں تحریر کرتے ہیں ۔

“سید صاحب اور مولانا اسمٰعیل صاحب اور سینکڑوں ساتھی شہید ہوئے، جو باقی رہے وہ ایسے منتشر ہوئے کہ شہیدوں کی تجہیز و تکفین بھی نہ کرسکے۔ مگر شیر سنگھ نے ان شہیدوں کا پورا احترام کیا۔ سید صاحب کی نعش کو قیمتی دوشالا اوڑھایا گیا۔ سکھ فوج کے مسلمان سپاہیوں نے نماز جنازہ ادا کی۔ پھر فوجی اعزاز کے ساتھ آپ کو سپرد خاک کیا گیا۔” (  علماء ہند کا شاندار ماضی، مولانا سید محمد میاں، ص: 254۔255)

            جس مبارک دن سید احمد کو شہادت نصیب ہوئی اس سلسلے میں مولانا غلام رسول مہر رقم طراز ہیں۔

“ذی قعدہ 1246ھ کی چوبیسویں تاریخ (6/مئی 1831ء) جمعہ کا دن اور گیارہ بارہ بجے کا عمل تھا” (سید احمد شہید، غلام رسول مہر، ص: 784)

سید احمد شہید نے یہ دعا کی تھی کہ میری قبر کا نام و نشان باقی نہ رہے تاکہ لوگ میری قبر کی پرستش نہ کرنے لگیں۔ ان کی یہ دعاقبول بھی ہوئی، آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ان کی قبر کہاں؟ اورکس جگہ ہے؟ سید احمد کی شہادت کے سلسلے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ ان کا سردھڑ سے جدا ہوگیاتھااور وہ دونوں علیٰحدہ علیٰحدہ مدفون ہیں ۔ ہندوستانی تاریخ میں سید احمد شہید کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو اکٹھا کر کے علم جہاد بلند کیا۔ سید احمد شہید کی تحریک کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ رام پور میں سید احمد سے کچھ افغانیوں نے آ کر ملاقات کی، ان لوگوں نے بتایا کہ سکھوں نے ان کی عورتوں کو زبردستی اپنے گھروں میں رکھ لیا ہے۔ اس سے پہلے بھی سید احمد سکھوں کی ظلم و زیادتی کے بارے میں مسلمانوں کی زبانی سن چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مریدوں کو جمع کیا اور شاہ اسماعیل اور مولانا عبدالحی کی مدد سے میں جہاد کی تبلیغ شروع کی۔ بالآخر انہیں اسی راستے میں شہادت جیسی عظیم نعمت نصیب ہوئی۔ اس ضمن میں پروفیسر شارب ردولوی نے بہت ہی اہم بات لکھی ہے۔

“اس جہاد کا اثر صرف ہندوستانی مسلمانوں ہی پر نہیں پڑا بلکہ عام سیاسی حالات کو بھی اس نے متأثر کیا۔ اگر لاہور کے درباریوں کی چالیں کامیاب نہ ہوتیں تو بہت ممکن تھا کہ تاریخ کا رخ ہی کوئی اور ہوتا لیکن جو توپوں اور تلواروں سے نہ ہارا وہ خود مسلمانوں ہی کی سیاست کا شکار ہو کر ختم ہو گیا۔” (جدید اردو تنقید اصول و نظریات، ڈاکٹر شارب ردولوی، ص: 117)

سید احمد شہید کے ذریعہ چلائی گئی اس تحریک کے سلسلے میں ڈاکٹر انور سدید رقم طراز ہیں ۔

“سید احمد شہید کی تحریک جہاد کا یہ انجام بظاہر تباہ کن نظر آتا ہے۔ تا ہم اسے ایک غیر مؤثر تحریک قرار نہیں دیا جاسکتا، اس فعال تحریک نے مسلمانوں کے ملی شعور کو بیدار کیا اور انہیں ذاتی منصب اور مفاد سے بلند ہوکر اجتماعی انداز میں سوچنے پر مائل کیا۔” (اردو ادب کی تحریکیں ، ڈاکٹر انور سدید، ص: 268)

اردو کے اہم شاعر حکیم مومن خاں مومن سید احمد شہید کے  مرید اور تحریک شہیدین سے بے حد متأثر تھے، مومن نے سید احمد  شہیدکے سکھوں سے جہاد کے سلسلے میں ایک مثنوی  بعنوان ‘جہادیہ’ لکھی تھی، اس مثنوی میں انہوں نے سید احمد شہید کو امام زمانہ کہا ہے۔ اس مثنوی میں جہاد کی تلقین  کے ساتھ شہادت کا سچا جذبہ پیش کیا  گیاہے،   مومن نے خود اپنے لیے یہ دعا کی تھی۔

الٰہی مجھے بھی شہادت نصیب

یہ افضل سے افضل عبادت نصیب

اوپر والا جس سے جو کام لینا چاہتا ہے اس کے اندر اس کام کی استعداد ڈال دی جاتی ہے۔ خدائے تعالیٰ کی جانب سے ظاہری اسباب بھی اس کے لیے ویسے ہی فراہم کردیئے جاتے ہیں۔ نسلی خصوصیات، خاندانی اوصاف، والدین کی تربیت، امنگیں، تمنائیں، گھر کا ماحول، فطری صلاحیتیں اور بلند کردار وغیرہ سب اسی عظیم مقصد کے لیے خاموشی سے مدد گار بنتے ہیں۔ سیداحمد کے سلسلے میں یہی چیزیں کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اس کے آثار بچپن ہی سے ظاہر ہونے لگے تھے ۔ سید احمد بچپن ہی سے بیواؤں ، یتیموں اور غریبوں کی امداد کرنے لگے تھے۔ بچپن سے شہادت تک شفقت و مہربانی سے کام لیتے رہے۔ ان کے نزدیک خدا کے کسی مخلوق کو ایذا دینا اور اپنے نفس کا انتقام لینا یا کسی پر غصہ اتار نا، نفس کے تقاضے سے اس کو اذیت پہنچانا ناجائز و نامناسب تھا۔ مصالحت کو بے حد اہمیت دیتے تھے، ہر کام میں رفقاء کے شریک حال رہے۔ مشقت و مجاہدے کے ہر کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔ تنگ دستی، فقر وفاقہ ہر حال میں ان کے شریک رہتے اور اپنے ہاتھ سے سب کام کرتے۔ ان کے یہاں امتیاز نام کی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔ سید احمدخود کودوسروں سے ممتاز اور اعلیٰ نہیں سمجھتے تھے۔سیداحمدشہید کی زندگی کا سب سے بڑا جوہر اور امتیاز اتباع ہے۔ اتباع سنت کا یہ جو ہر  ہی ہے جس نے انہیں حمیت  اسلام، بے کس مسلمانوں کی امداد اور جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ کیا۔ انہوں نے وعظ و نصیحت، دعوت و تبلیغ اور سلوک و ارشاد پر ہی قناعت نہ کی بلکہ اسی راہ میں  اپنی جان قربان کردی۔ خدا انہیں غریق رحمت کرے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

مراجع و مصادر

  1. سیرت سید احمد شہید ؒ (حصہ اول ، دوم) ، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، 1977ء
  2. جب ایمان کی بہار آئی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مکتبہ فردوس، مکارم نگر، لکھنؤ، 1974ء
  3. کربلا سے بالا کوٹ تک ، محمد سلیمان فرخ آبادی، مرکزی مکتبہ اسلامی، دہلی، 1971ء
  4. علماء ہند کا شاندار ماضی، مولانا سید محمد میاں ، ایم برادرس، دہلی، 1960ء
  5. حیات طیبہ، مرزا حیرت دہلوی، مکتبہ التوحید، جامعہ نگر، نئی دہلی، 1984ء
  6. ہمارے ہندوستانی مسلمان، ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر مترجمہ ڈاکٹر صادق حسین، اقبال اکیڈمی، لاہور، 1944ء
  7. القرآن المجید، سورۃ الحجرات، آیت: 9
  8. سر گذشت مجاہدین، مولانا غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز لمیٹڈ پبلشرز، لاہور
  9. جدید اردو تنقید اصول و نظریات، ڈاکٹر شارب ردولوی، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 2002ء
  10. اردو ادب کی تحریکیں ، ڈاکٹر انور سدید، کتابی دنیا، دہلی، 2008ء
  11. کلیات اقبال، اقبال، تاج پبلشنگ ہاؤس، دہلی
  12. کلیات مومن، مرتبہ عبادت بریلوی، کتابی دنیا، کراچی، لاہور، 1955ء
  13. سید احمد شہید، غلام رسول مہر، شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز، لاہور، اشاعت سوم 1981
  14. شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک، عبیداللہ سندھی، سندھ ساگر اکادمی، لاہور، 1945ء
  15. تقویۃ الایمان، حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید دہلوی، شیخ الاسلام اکیڈمی، گلی بتاشے والی، کھاری باولی، دہلی،